انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 175

انوار العلوم جلد 23 175 تعلق باللہ یسے لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کر ہی نہیں سکتے اور جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ عقل بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ دس قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت نہیں کرتا یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ دس قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت نہیں کر (1، 2) اوّل مختال سے اللہ تعالیٰ محبت نہیں کرتا اور دوسرے فَخُورا سے اللہ تعالیٰ محبت نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا 72 جس شخص کے اندر کبر پایا جاتا ہے اور جس شخص کے اندر فخر کی عادت پائی جاتی ہے اس سے خدا محبت نہیں کرتا یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو کہ جس شخص کے اندر تکبر پایا جاتا ہے یا جس شخص کے اندر فخر کامادہ پایا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کر سکتا۔مختال اُس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی اتنی بڑی شان سمجھے کہ گویا سب مصائب سے محفوظ ہے اور فَخُورًا اُسے کہتے ہیں جسے یہ خیال ہو کہ میرے اندر ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں جو دوسروں میں نہیں اور انہیں طعنہ دے کہ میرے جیسی خوبیاں دوسروں میں کہاں ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ دونوں خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کر سکتے بلکہ در حقیقت کسی انسان سے بھی محبت نہیں کر سکتے جس شخص کے اندر کبر پایا جاتا ہے اگر خد اتعالیٰ کی کبریائی کا اُسے کبھی خیال آتا تو کیا وہ تکبر کر سکتا ؟ جس کے سامنے بادشاہ کھڑا ہو کیا وہ اپنا سر اونچا کر سکتا ہے؟ معمولی سپر نٹنڈنٹ پولیس بھی سامنے کھڑا ہو تو سپاہی ایسا مؤدب اور شریف بن کر کھڑا ہوتا ہے کہ گویا اس کے منہ میں زبان ہی نہیں۔پھر جو شخص خدا تعالیٰ کی کبریائی کا بھی خیال نہیں رکھتا اس نے خدا تعالیٰ سے محبت کیا کرنی ہے۔محبت یا تو حسن سے پیدا ہوتی ہے یا احسان سے۔جب یہ اپنے آپ کو اتنی بڑی شان کا مالک خیال کرتا ہے لہ سمجھتا ہے میں سب مصائب سے محفوظ ہوں تو ذاتِ باری کا حسن یا اُس کا احسان اسے کس طرح نظر آسکتا ہے۔پس مختال سے خدا تعالیٰ محبت نہیں کرتا اور نہ ایسا شخص خدا تعالیٰ سے محبت کر سکتا ہے۔