انوارالعلوم (جلد 23) — Page 159
انوار العلوم جلد 23 159 تعلق بالله ہم اگر معنی کر سکتے ہیں تو یہی کہ ذنب تو اس سے صادر ہو سکتا ہے لیکن وہ اسے نقصان نہیں پہنچاتا۔ ذنب کا لفظ گناہ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور بشری کمزوری کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ پس یہ مراد نہیں کہ ذَنْب اُس سے صادر ہی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ اگر ذَنْب اُس سے صادر ہو جائے تو اُسے نقصان نہیں پہنچاتا۔ اگر گناہ کے معنی کئے جائیں تو یہ معنی ہوں گے کہ ایسے انسان کو کھلی چھٹی دے دی جاتی ہے کہ جو مرضی ہے کرے۔ خواہ ڈا کہ مارے، خواہ چوری کرے، خواہ بدکاری کرے، خواہ جھوٹ بولے لیکن یہ اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے۔ دوسرے معنی اس کے یہ ہو سکتے ہیں کہ اگر وہ گناہ کرے تو اللہ تعالیٰ ایسے بندہ کو جھٹ توبہ کی توفیق دے دیتا ہے اور اس طرح گناہ اُسے نقصان نہیں پہنچا سکتا اور یہی اس کے حقیقی معنی ہیں۔ چنانچہ اس حدیث کے اگلے ٹکڑہ میں اس کی وضاحت آ جاتی ہے چنانچہ مذکورہ بالا عبارت کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لا ذَنْبَ لَهُ 57 یعنی اُسے گناہ سے نقصان اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ ضرور توبہ کر لیتا ہے اور جو گناہ سے توبہ کرلے وہ ایسا ہی ہے کہ جیسے اُس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ غرض اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ مومن کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ جب خدا اُس سے پیار کرنے لگ جائے تو اُس کا کوئی گناہ اُسے نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ معنی نہیں کہ وہ کوئی ادنی غلطی بھی نہیں کرتا۔ یہ معنی بھی نہیں کہ وہ کوئی بڑی غلطی نہیں کرتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس کو ایسی خشیت کے مقام پر لے جاتا ہے کہ اِدھر وہ غلطی کرتا ہے اور اُدھر اللہ تعالیٰ اُسے توبہ کی توفیق عطا فرما دیتا ہے اور وہ گناہ اُسے معاف ہو جاتا ہے۔ یہی آدم کے قصہ کی حقیقت ہے کہ وہ بھول گیا تھا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نسی 58 آدم بھول گیا اور اُس سے غلطی سرزد ہو گئی۔ اس کے بعد وہ گھبر اس کے بعد وہ گھبرایا تو ہم نے کہا گھبراتے کیوں ہو دعا کرو ہم تمہیں معاف کر دیں گے۔ چنانچہ آپ ہی اُسے دعا سکھلائی اور پھر اُسی دعا کے کرنے پر انہیں معاف کر دیا۔ چنانچہ فرماتا ہے فَتَلَقَّى آدَمَ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَةٍ 59 اس پر آدم نے اپنے رب سے کچھ دعائیں سیکھیں فَتَابَ عَلَيْهِ 60 جن کے مانگنے پر اللہ تعالیٰ نے اُسے