انوارالعلوم (جلد 23) — Page 136
انوار العلوم جلد 23 136 تعلق باللہ اپنے ماں باپ سے پیدا ہوئے لیکن آگے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ آدم و حوا خدا سے پیدا ہوئے۔یہ نہیں کہ آدم خدا میں سے نکلا بلکہ یہ کہ اُس کے پیدا کرنے کے عام ذرائع ذاتِ باری میں مرکوز ہو گئے۔اگر خدا اپنی تقدیر خاص سے آدم کو پیدانہ کرتا تو نسل انسانی کا سلسلہ اس دنیا میں جاری نہ ہوتا۔پس بعد میں آنے والے انسان اپنی ماؤں سے پیدا ہوئے اور آدم و حواذات باری سے۔یعنی كُن فَيَكُونُ 16 سے پیدا ہوئے۔علق کے دوسرے معنی کُلُّ مَا عَلَقَ 17 کے ہیں یعنی جو چیز لٹکائی جائے اُسے علق کہتے ہیں اور عَلَق کے معنی الطَّيْنَ الَّذِي يُعَلَّقَ بِالْيَدِ 18 کے بھی ہیں یعنی وہ گندھی ہوئی مٹی جس میں اتنی چپک اور لزوجت پیدا ہو جائے کہ اگر اُسے ہاتھ لگاؤ تو وہ ہاتھوں سے چمٹ جائے۔بعض میاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ ہاتھوں سے نہیں چمٹتیں لیکن جب ایسی مٹی ہو جو ہاتھوں سے چمٹ جائے تو اُسے علق کہیں گے۔اور قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ طنین ہی سے انسان پیدا ہوا ہے۔یوں تو ایسی طین بھی ہو سکتی ہے جس میں پانی زیادہ ہو اور وہ ہاتھوں سے نہ چھٹے یا ایسی طین بھی ہو سکتی ہے جو خمیر کی طرح اُبھری ہوئی ہو لیکن انسان ایسی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں چمٹنے کی خاصیت پائی جاتی ہے اور وہ گوندھنے والے یا بنانے والے کے ہاتھوں سے چپک جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکثر کسی صوفی کا یہ قول پنجابی میں بیان فرمایا کرتے تھے کہ یا تو کسی کے دامن سے چمٹ جایا کوئی دامن تجھے ڈھانپ لے۔یعنی اس دنیا کی زندگی ایسی طرز پر ہے کہ اس میں سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہیں کہ یا تو تم کسی کے بن جاؤ یا کوئی تمہارا بن جائے اور یہی طین سے پیدا کرنے کا مفہوم ہے۔یعنی انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ یا تو وہ کسی کا ہو کر رہنا چاہتا ہے یا کسی کو اپنا بنا کر رکھنا چاہتا ہے۔دیکھ لو بچہ ابھی پوری طرح ہوش بھی نہیں سنبھالتا کہ کسی کے ہو جانے کا شوق اس کے دل میں گد گدیاں پیدا کرنے لگتا ہے۔بلوغت تو کئی سالوں کے بعد آتی ہے لیکن چھوٹی عمر میں ہی لڑکیوں کو دیکھ لو وہ کھیلتی ہیں تو کہتی ہیں یہ میراگڑا ہے اور وہ تیری گڑیا ہے۔آؤ ہم گڑے گڑیا کا بیاہ رچائیں۔میرے گڈے کے ساتھ تیری گڑیا کی شادی