انوارالعلوم (جلد 23) — Page 135
انوار العلوم جلد 23 135 تعلق باللہ نہیں؟ اگر تمھیں تو پھر اُن کی مائیں اور اُن کے باپ بھی ماننے چاہئیں۔ورنہ یہ آیت غلط ہو جاتی ہے اور اگر اُن کی مائیں تھیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس طرح پیدا ہوئیں؟ اگر کہو کہ اپنی ماؤں سے۔تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس طرح پیدا ہوئیں ؟ غرض اس طرح اس سلسلہ کو چاہے دس کروڑ سال تک لے جاؤ تمہیں یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ نسل انسانی کا آغاز جس آدم و حوا سے ہو اوہ علق کے بغیر پیدا ہوئے تھے اور یا پھر تمہیں یہ ماننا پڑے گا کہ اس تسلسل میں عَلَق دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔آدم تک اور معنی ہیں اور آدم و حوا کے متعلق یا جو بھی پہلا جوڑا تھا اس کے متعلق کچھ اور معنے ہیں اور یہ آخری بات ہی درست ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا کلام غلط نہیں ہو سکتا اور جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَق کے دو معنی ہیں۔ایک یہ کہ رحم مادر میں جمے ہوئے خون سے انسان کو پیدا کیا اور دوسرے یہ کہ انسان کو اسی طرح پیدا کیا کہ اُس کی فطرت میں محبت الہی رکھی گئی۔تمام انسانوں کیلئے اس آیت کا یہ مفہوم ہے کہ وہ جمے ہوئے خون سے پیدا ہوئے لیکن انسانِ اوّل یا پہلے جوڑے کے متعلق اس کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تعلق باللہ کے مادہ کے ساتھ پیدا کیا۔پس یہ آیت اپنے ایک مفہوم کے لحاظ سے آدم کی تمام نسل پر چسپاں ہوتی ہے اور دوسرے مفہوم کی رو سے پہلے جوڑے اور اُس کی نسل سب پر چسپاں ہوتی ہے۔اور نسل انسانی کا کوئی نکاح نہیں جس پر یہ آیت چسپاں نہ ہو سکتی ہو۔گویا آدم اول کی ماں خدا تھا جس کی محبت اُس کے دل میں پیدا کی گئی تھی۔ایک تیسرے معنی بھی اس آیت کے ہو سکتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ علق کا تعلق انسان سے نہیں خدا تعالیٰ سے قرار دیا جائے اور معنی یہ لئے جائیں کہ انسان کی پیدائش کی وجہ وہ علاقہ تھا جو اُلوہیت کو انسانیت سے تھا۔یعنی الوہیت ایک ایسے وجود کو چاہتی تھی جو اس کی صفات کو ظاہر کرے۔پس اُلوہیت کی یہ تڑپ انسان کے پیدا کرنے کا موجب ہوئی اور لو یا خدا تعالیٰ انسان کے لئے بمنزلہ ماں بن گیا اور اس میں کیا شبہ ہے کہ ماں کو بچہ سے اور بچہ کو ماں سے شدید تعلق ہوتا ہے۔قرآن اور احادیث سے بھی صاف پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں سے تعلق ماں سے زیادہ ہوتا ہے۔پس آدم اول تک تو سب لوگ۔