انوارالعلوم (جلد 23) — Page 131
انوار العلوم جلد 23 131 تعلق باللہ ہوئے تھے۔چھڑی بہت نازک اور ملکی اور باریک سی تھی اور قریباً سوا گز لمبی تھی۔میں اُس وقت رؤیا میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ خدا تعالیٰ کا وجود ہے جو میرے سامنے ظاہر ہوا ہے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ حضرت اماں جان جو در حقیقت وجود باری کا ظہور تھا) میرے پاس آئیں اور جس طرح ماں بعض دفعہ بچہ پر بظاہر غصہ کا اظہار کر رہی ہوتی ہے یکن در حقیقت اُس غصہ کے پیچھے محبت ہوتی ہے اسی طرح انہوں نے بھی وہ چھڑی مجھے مارنے کے لئے اٹھائی اور کہا " محمود ! لیٹتا ہے کہ نہیں چارپائی پر " اور میں نے دیکھا کہ ان الفاظ کے ساتھ ہی انہوں نے وہ چھڑی نہایت نرمی سے میرے جسم کے ساتھ چُھو دی۔ادھر میں نے یہ نظارہ دیکھا اور اُدھر میں نے سمجھا کہ گو اللہ تعالیٰ نے چار پائی پر لیٹنے کا ہی حکم دیا ہے لیکن اگر ذرا بھی اس حکم کے ماننے میں دیر ہوئی تو میرے ایمان میں خلل آ جائے گا۔چنانچہ جو نہی اُن کا ہاتھ پیچھے ہٹا میں رویا کی حالت میں ہی چھلانگ لگا کر چار پائی پر آگیا اور جب آنکھ کھلی تو میں چار پائی پر لیٹا ہوا تھا۔اب فرض کرو میر اوہ کام ہو جاتا تو مجھے اس میں کیا مزا آتا۔مگر وہ لطف جو اُس رؤیا سے مجھے آیا اُس کا مزہ میرے دل میں آج تک باقی ہے اور اس کا خیال کر کے بھی اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں گد گدیاں پیدا کرنے لگتی ہے اور ایسا ایک دفعہ نہیں بیسیوں دفعہ ہوا ہے اور کئی کئی رنگ میں ہم نے خدا تعالیٰ کے فضل کے مشاہدات کئے ہیں اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ محبت اور پیار کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان چیزوں میں جو لطف ہے وہ باقی کیفیات میں کہاں ہے۔بس ان دونوں کا ایسا ہی فرق سمجھ لو جیسے ایک ماں اپنے بچہ کو جب چھاتی سے دودھ پلا رہی ہوتی ہے تو جو اطمینان اُس بچہ کے چہرے پر دوڑتا ہوا نظر آتا ہے جس بے تکلفی اور محبت سے وہ اپنی آنکھیں کبھی بند کرتا ہے اور کبھی کھولتا ہے، کبھی منہ مچکا تا اور کبھی مسکراتا ہے اُس کی کیفیت بالکل اور ہوتی ہے۔اُس وقت وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ مجھے دودھ پلارہی ہے بلکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ مجھے اپنی محبت اور پیار سے حصہ دے رہی ہے۔اس کے مقابلہ میں تم نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ دروازہ پر فقیر آیا تو عورت نے اُسے روٹی دے دی۔اُس نے ایک مانگی تو