انوارالعلوم (جلد 23) — Page 130
انوار العلوم جلد 23 130 تعلق باللہ کہ خدا تعالیٰ انسان کو نہیں ملتا۔اگر ہم نے اُس کی اطاعت کی تو یہ اُس کا ملنا ہو گیا اور اگر اُس نے ہم پر فضل اور احسان کیا تو یہ اُس کے تعلق کا ایک ثبوت ہو گیا۔یہ محض فلسفیانہ رنگ کا ایک دعوی ہے جو خدا تعالیٰ سے دوری اور اُس کی محبت کے کرشموں کو نہ دیکھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔اگر تو اتنا ہی ہوتا کہ مثلاً مجھے ایک ضرورت ہوتی اور وہ پوری ہو جاتی تو گو اس سے مجھے یہ تسلی ہو جاتی کہ میری ضرورت پوری ہو گئی ہے لیکن میرے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا نہ ہوتی لیکن میرا یہ احساس کہ میرے خدا نے میری فلاں ضرورت پوری کی ہے یہ ایک ایسی چیز ہے جو مجھے خدا تعالیٰ کی محبت میں گداز کر دیتی ہے۔مجھے یاد ہے میری جوانی کا زمانہ تھا۔ابھی میری خلافت پر دو تین سال ہی گزرے تھے کہ مجھے ایک مشکل پیش آگئی اور میں نے اُس کام کے لئے دعائیں شروع کر دیں مگر میرا وہ کام نہ ہوا۔آخر میں نے فیصلہ کیا کہ جب تک میرا یہ کام نہیں ہو جائے گا میں چار پائی پر نہیں سوؤں گا۔میرے اندر بھی اُس وقت گاندھی کی کوئی رگ تھی اور میں نے بھی ایک رنگ میں ستیہ گرہ کر دی اور زمین پر لیٹ گیا۔امۃ الحی مرحومہ اُن دنوں زندہ تھیں اور انہی کے ہاں اُس دن باری تھی۔ہم دونوں کے لئے ایک بڑی سی چار پائی ہوتی تھی اور اُس پر ہم سویا کرتے تھے مگر اُس رات میں نے امتہ الحی سے کہا کہ تم اپنا بستر اوپر کر لو۔میرا بستر نیچے ہی رہے گا۔کہنے لگیں کیوں؟ میں نے کہا کوئی بات ہے۔چنانچہ میں فرش پر بستر کر کے لیٹ گیا۔یہ معلوم نہیں کہ مجھے لیٹے ہوئے ابھی گھنٹہ گزرا تھا یا دو گھنٹے۔بہر حال نصف رات سے کم وقت ہی تھا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ میرے سامنے آیا ہے مگر وہ اُس وقت حضرت اماں جان کی شکل میں تھا (حضرت سیّد عبد القادر جیلانی کو بھی ایک دفعہ اللہ تعالیٰ اُن کی والدہ کی شکل میں ملا تھا۔پس خشک ملا غصہ میں نہ آئے کہ وہ جو کچھ مجھے کہے گا وہی سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق بھی کہنا پڑے گا) اُس کے ہاتھ میں ایک نہایت نرم اور نازک لمبی سی چھڑی تھی وہ تازہ شاخ کی معلوم ہوتی تھی اور چھڑی کے ساتھ کچھ سبز پتے بھی لگے