انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 109

انوار العلوم جلد 23 109 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور ہندوستان کے مسلم پر یس کا احتجاج دو پوری ہوتی ہے دوسری خوشی مجھے یہ ہوئی کہ اس موقع پر ہندوستان کے مسلم پر لیس نے بھی اس فتنہ کے خلاف آواز بلند کی۔حتٰی کہ وہ اخبارات جو پہلے ہمارے دشمن تھے اُنہوں نے بھی بڑے زور سے ہماری تائید کی۔ان میں سے ایک نے تو لکھا کہ اس فتنہ کو دیکھ کر ہمارے سر ندامت سے جھک جاتے ہیں اور ہم ہندوستان کے غیر مسلموں کے سامنے آنکھ اُٹھانے کے قابل نہیں رہے۔یہ ایک بہت نیک تبدیلی ہے۔ہم دُعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے پھر ترقی کے مواقع پیدا کرے۔انہیں ہر قسم کے ظلم سے بچائے۔ان کے بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا سامان پیدا کرے اور ہندوستان میں اسلام کو پھر وہی بلکہ اس سے بھی زیادہ عزت حاصل ہو جو اسے پہلے وہاں حاصل تھی۔اب اس فتنے نے ایک اور پلٹا کھایا ہے اور وہ یہ کہ ہمارے خلاف منظم بائیکاٹ کی تحریک شروع کی گئی ہے لیکن اس قسم کی چیزیں عارضی ہوتی ہیں جو انشاء اللہ بہت جلد خود ہی ختم ہو جائیں گی۔حقیقت یہ ہے کہ کام کا ارادہ کرنا اور چیز ہوتی ہے اور کام کر لینا اور چیز ہوتی ہے۔سراسر جھوٹے الزامات اب آخری تدبیر کے طور پر ہمارے مخالفین نے سراسر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی مہم شروع کی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ ان لوگوں نے جھوٹ بولنے میں جتنا کمال حاصل کر لیا ہے ہماری جماعت نے ابھی سچ بولنے میں اتنا کمال حاصل نہیں کیا۔اگر سچ بولنے میں ہماری جماعت کمال حاصل کرلے تو یہ جھوٹا پروپیگنڈا ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا۔مثلاً (1) پہلا الزام یہ لگایا گیا ہے کہ ہم نے فرقان فورس کے ذریعے پاکستان کو سخت نقصان پہنچایا۔مکمل فوجی وردیاں اور بہت سے ہتھیار اور گولہ بارود وغیرہ حاصل کر کے ربوہ میں لے آئے۔یہ الزام لگاتے ہوئے فوجی وردیوں اور گولہ بارود کی جو تفصیل پیش کی گئی ہے۔اوّل تو وہی اس الزام کی تردید کے لئے کافی ہے کیونکہ بیان کردہ مقدار کبھی ایک بٹالین کو مل ہی نہیں سکتی۔دوسرے ہمارے پاس فوجی حکام کی با قاعدہ