انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 106

انوار العلوم جلد 23 106 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔دلیری سے اصل حالات کا جائزہ لیا۔پاکستان کے دوسرے صوبوں نے تو پنجاب سے بھی بہتر نمونہ دکھا یا بالخصوص سرحد کے وزیر اعظم نے تو بڑی دلیری سے اس فتنے کو بڑھنے سے روکا اور اسے دبایا۔اسی طرح سندھ میں بھی شرارتیں محدود رہی ہیں اور اب تو پنجاب میں بھی حالات بہتر ہو رہے ہیں گو پوری طرح فتنہ دبا نہیں ہے۔بعض صریحاً غلط الزامات جہاں مجھے خوشی ہے کہ اکثر مقامات پر حکومت نے دیانتداری سے کام کرنے کی کوشش کی ہے وہاں مجھے افسوس ہے کہ حکومت کے بعض افسروں نے ہمارے متعلق غلطیاں بھی کی ہیں مثلاً حکومت نے ایک اعلان میں یہ الزام لگایا ہے (گو نام نہیں لیا مگر اشارہ ہماری ہی طرف تھا) کہ احمدی افسر اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر احمدیت کی تبلیغ کرتے ہیں اور اپنے ہم مذہبوں کو ملازمت میں بھرتی کرتے ہیں۔اسی طرح ایک ذمہ دار افسر نے کہا که احمدی افسر اپنے عہدے سے فائدہ اُٹھا کر احمدیوں کو ناجائز الاٹمنٹ کرتے ہیں۔جو شخص اپنے عہدے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ناجائز طور پر ایسے کام کرتا ہے اور اس طرح حق داروں کی حق تلفی کرتا ہے میرے نزدیک وہ نہ صرف حکومت کا مجرم ہے بلکہ قرآن کا بھی مجرم ہے کیونکہ وہ قرآن کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک فعل کا جرم ہونا کسی کو یہ حق دے دیتا ہے کہ وہ بغیر تحقیقات کے کسی پر اس جرم کے ارتکاب کا الزام لگا دے۔کیا حکومت کا یہ فرض نہیں تھا کہ وہ یہ الزام لگانے سے پیشتر اس شکایت کی تحقیقات کرتی اور یوں بغیر تحقیقات کے ایک قوم پر الزام لگا کر اس کی ہتک کا مر تکب نہ ہوتی۔کیا حکومت کے لئے یہ کوئی مشکل امر تھا کہ وہ ان الزامات کی با قاعده تحقیقات کراتی اور ان کے ثبوت بہم پہنچاتی؟ پھر اگر یہ الزام کسی احمدی افسر کے متعلق درست ثابت ہوتا تو بے شک اسے سزا دیتی کیونکہ وہ واقعی مجرم ہے نہ صرف حکومت کا بلکہ اسلام کا بھی لیکن اگر یہ الزام درست ثابت نہ ہو تو یقیناً یہ صریح بے انصافی ہے کہ ہم پر بغیر تحقیقات کے صرف اس لئے الزام لگا دیا جائے کہ ہم غریب ہیں اور کمزور ہیں۔