انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 105

انوار العلوم جلد 23 105 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت ، تعمیر ربوہ اور ۔۔۔۔ پھیلا یا جا رہا ہے ہر گز بنگال میں نہیں آنے دیں گے۔ ہوا کہ ملک کے حکومت کی دھمکیاں کراچی کے فساد کا ایک اور اثر یہ ہوا کہ شریف اور سنجیدہ لیڈروں نے ان لوگوں کو سمجھانا شروع کیا جو کسی نہ کسی رنگ میں اس فتنہ سے متاثر ہو رہے تھے اور انہیں اس کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا۔ پھر جب جماعت اسلامی نے جو حکومت کی کھلی مخالف ہے ہماری مخالفت میں آگے آنا شروع کیا تو سیاسی لیڈروں کی بھی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے محسوس کیا جماعت احمدیہ کے مخالف دراصل اس آڑ میں حکومت کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چنانچہ جلد ہی اس کا ثبوت بھی مل گیا اور وہی لوگ جو شروع میں ہماری مخالفت کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ہمیں سیاست سے یا حکومت کی مخالفت سے کوئی واسطہ ہی نہیں انہوں نے : نے بر ملا حکومت کو د مت کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں"۔ اس موقع پر حضور نے اخبار آزاد اور زمیندار میں سے متعدد ایسے حوالے پڑھ کر سنائے جن میں حکومت کے ذمہ دار راہنماؤں کے نام لے لے کر کھلے طور پر یہ دھمکی دی گئی تھی کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبے نہ مانے تو ہم حکومت سے ٹکرائیں گے، بدامنی پیدا کریں گے اور جنرل نجیب کی طرح حکومت کا تختہ الٹا دیں گے۔ اس طرح ان حوالوں میں عوام کو تلقین کی گئی تھی کہ وہ کسی لیڈر کا انتظار نہ کریں بلکہ خود آگے آکر ملک میں بدامنی پیدا کریں۔ فرمایا:- ”ہمارے خلاف ان فسادات کے ایام میں حکومت نے اکثر مقامات پر دیانتداری سے کام کرنے اور حالات کو سدھارنے کی کوشش کی۔ اس نے جو اعلانات کئے وہ بھی درست تھے۔ گو عملاً بعض مقامات پر حکومت حالات پر قابو رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ صوبائی مسلم لیگ کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:- مجھے خوشی ہے کہ مسلم لیگ کا رویہ بہت اچھا رہا اس نے اپنے ہر اجلاس میں