انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 98

انوار العلوم جلد 23 98 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔لہ یہ زمین ایری گیشن (IRRIGATION) کے ناقابل ہے اور نان کلٹی ایبل (NON CULTIABLE) ہے یعنی اس زمین کے متعلق ہے کہ یہاں آب پاشی اور زراعت نہیں ہو سکتی۔یہ زمین دوسری زمین سے 23 فٹ بلند ہے۔پانی چڑھے کہاں اور پھر پانی نمکین ہے۔سوائے اس کے کہ جب خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ یہاں میٹھا پانی نکلے گا تو یہاں میٹھا پانی نکلنا شروع ہوا اور وہ بھی ابھی کچھ حصہ سے نکلنا شروع ہوا ہے۔ایسے کور دیہہ میں دو سال کے بعد دو دو ہزار کو زمین بکنی شروع ہو گئی۔آخر کسی کی عقل میں۔بات نہیں آئی کہ اس شخص کے پاس کون سا جادو ہے کہ وہ مٹی کو ہاتھ لگاتا ہے تو وہ سونا بن جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پیرانامی ایک نوکر تھا جو بالکل جاہل تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ان لوگوں سے بھی بعض دفعہ بے تکلفی کا اظہار کر لیا کرتے تھے۔ایک دن آپ نے پیرے سے کہا۔کیا تمہیں بھی دین کا کچھ پتہ ہے ؟ پیرے نے جواب دیا کہ اور تو مجھے کچھ پتہ نہیں۔ہاں میں نے ایک دن مولوی محمد حسین سے بحث کی تھی۔حضرت خلیفہ المسیح الاول نے فرمایا اچھا تم نے مولوی محمد حسین سے بحث کی تھی۔پھر انہوں نے کیا کہا؟ پیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ملازم تھا۔آپ اسے بلٹیاں دے دیتے تھے اور وہ اسے بٹالہ سے لانی پڑتی تھیں۔اس نے کہا کہ میں جب بلٹیاں لینے جایا کرتا تھا تو روزانہ مولوی محمد حسین کو دیکھتا کہ وہ اسٹیشن پر آتے اور اگر کوئی آدمی قادیان آنے والا دیکھتے تو اسے کہتے میں مرزا صاحب کا پرانا دوست ہوں، میرے ان سے تعلقات ہیں، میں جانتا ہوں کہ اُنہوں نے دکان بنائی ہوئی ہے اور کچھ نہیں۔ان کی ان باتوں سے متاثر ہو کر کوئی تو واپس چلا جاتا اور کوئی ان کی باتوں سے اثر لئے بغیر قادیان آجاتا۔پیرا کہنے لگا میں اسی طرح مولوی محمد حسین کو روزانہ اسٹیشن پر دیکھتا۔ایک دن اتفاقا مولوی صاحب کو قادیان جانے والا کوئی شخص نہ ملا۔وہ میرے پاس آئے اور کہا پیر یا تو نے کیوں اپنا ایمان خراب کر لیا ہے ؟ کیا تو نے سوچا بھی ہے آخر میں اتنا بڑا عالم ہوں۔مولوی صاحب کو یہ بڑا شوق تھا کہ لوگوں کو پتہ لگے کہ میں بڑا عالم ہوں