انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 93

انوار العلوم جلد 23 93 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت ، تعمیر ربوہ اور۔۔ربوہ کی تعمیر دوسری بات میں تعمیر ربوہ کے متعلق لیتا ہوں۔ربوہ کی تعمیر اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا احسان ہے یعنی یہ ایک مثال ہے جو پاکستان اور ہندوستان میں پائی جاتی ہے کہ اتنی جلدی ایک اُکھڑی ہوئی قوم نے اپنا مرکز بنالیا۔جہاں تمہیں اور فضائل دوسرے لوگوں پر حاصل ہیں وہاں یہ کیا کم فضیلت ہے۔یہ ایک زندہ اور نمایاں فضیلت ہے جو تمہیں حاصل ہے۔لوگ شور مچاتے ہیں کہ گور نمنٹ نے انہیں لاکھوں کی زمین کوڑیوں میں دے دی۔زمین کیا دے دی۔حکومت نے ایک اعلان شائع کیا تھا اور گور نمنٹ گزٹ میں یہ بات شائع ہوئی تھی کہ ہم یہ زمین بیچنا چاہتے ہیں کیا کوئی گاہک ہے جو یہ زمین خریدے۔ہم نے کہا چلو ہم یہ زمین لے لیتے ہیں۔جب کوئی اور گاہک نہ آیا تو حکومت نے ہمیں یہ زمین دے دی۔بعد میں اگر کسی کو حسد ہو جائے تو اس کا کون ذمہ دار ہے۔دو سال کا عرصہ ہوا "زمیندار" نے یہ بات شائع کی کہ حکومت نے پچاس لاکھ کی زمین احمدیوں کو کوڑیوں میں دے دی۔میں نے اسی وقت اسے ایک تار دیا کہ زمین حاضر ہے تم وہ گاہک لاؤ جو اس زمین کے بدلہ میں پچاس لاکھ روپیہ دے گا میں اسے زمین دے دوں گا اور پھر زائد رقم جو ملے گی وہ میں خود نہیں رکھوں گا بلکہ زائد رقم میں گورنمنٹ کے خزانہ میں جمع کروا دوں گا۔میری تار کا اُس نے جواب نہ دیا اور وہ چپ ہو گیا۔اگر واقعہ یہ تھا کہ کوئی شخص اس زمین کی قیمت پچاس لاکھ روپیہ دیتا تھا تو چاہئے تھا کہ "زمیندار" کا ایڈیٹر اسے آگے لاتا، اس زمین کی قیمت پچاس لاکھ تو کیا ہمیں اب پچاس کروڑ ملے گا لیکن یہ پچاس کروڑ روپیہ ملے گا اس مدرسہ کی وجہ سے جو یہاں بنا ہے، یہ روپیہ ملے گا اس کالج کی وجہ سے جو آئندہ یہاں بنے گا، یہ روپیہ ملے گا ہسپتال کی وجہ سے جو یہاں بنا ہے، یہ روپیہ ملے گا اس زنانہ کالج کی وجہ سے جو یہاں بنا ہے، یہ روپیہ ملے گا اس دینیات کالج کی وجہ سے جو یہاں بنا ہے، یہ روپیہ ملے گا ان دینی تعلیموں کی وجہ سے جو اس جگہ دی جارہی ہیں۔یہ روپیہ ربوہ کی زمین کی وجہ سے کسی کو نہیں ملے گا۔اب اس زمین کو لے کر دیکھ لو۔