انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 91

انوار العلوم جلد 23 91 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت ، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔بن جاتی ہے اور کس طرح اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دراصل یہ دو پیشگوئیاں ہیں اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس وجود کو ہم نے ایک قرار دیا تھا اس کا ایک حصہ اسی سے پانچ سال کم عمر پا کر فوت ہو گیا اور ایک حصہ اسی سے پانچ سال زیادہ عمر میں فوت ہو گیا۔اب یہ کسی کے اختیار کی بات نہیں تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام 75 سال کی عمر میں فوت ہوئے اور آپ کی بیوی جو مریض تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا لٹریچر آپ کی مرض سے بھرا پڑا ہے وہ تو 85 سال کی عمر میں فوت ہوں۔اس الہام کے یقیناً یہی معنے ہیں کہ اس کے ایک حصہ میں ایک کی موت کی خبر دی گئی ہے اور دوسرے حصہ میں دوسرے کی موت کی خبر دی گئی ہے۔حضرت اناں جان کو ایک پرانی خواب آئی تھی۔جب حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد آپ کی طبیعت گھبرانے لگتی تو آپ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کے عر چلی جاتیں۔میر صاحب کو آپ نے نہایت محبت اور اخلاص سے پالا تھا اور میر صاحب کو بھی اپنی بہن کا بہت احترام تھا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے آپ جب گھبرا جاتیں تو میر صاحب کے ہاں چلی جاتیں۔مجھے یہ بات بری لگتی لیکن میں آپ کے ادب کی وجہ سے بولتا نہیں تھا۔میں سمجھتا تھا کہ آپ کو مرکز میں رہنا چاہئے۔ایک دن آپ میر صاحب کے ہاں سے تشریف لائیں تو آپ نے بتایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں صفر میں فوت ہوئی ہوں۔میرا ذہن فوراً اس طرف گیا کہ چلو اب موقع ہے انہیں مرکز میں ہی مستقل طور پر ٹھہرنے کے لئے کہہ دوں۔میں نے کہا۔اتاں جان ! صفر ص سے کیوں، س سے کیوں نہیں۔میرے نزدیک تو اس خواب میں آپ کو بتایا گیا ہے کہ آپ سفر میں فوت ہوں گی اس لئے آپ سفروں سے پر ہیز کریں۔چنانچہ اس کے بعد آپ نے کوئی سفر نہیں کیا۔میرے ساتھ سفر میں جاتی تھیں۔یوں نہیں جاتی تھیں۔جب آپ بیمار ہو تیں تو میری یہ کوشش تھی کہ میں انہیں پکے مکانوں میں لے جاؤں تا سفر ہجرت کی حالت ختم ہو جائے۔ابھی ہم کچے مکانوں میں ہی رہتے تھے۔میں ڈاکٹروں سے کہتا اُن میں سے ایک حصہ مان جاتا اور کہتا اچھی بات ہے وہاں کھلی ہو ا ہو گی