انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 90

انوار العلوم جلد 23 90 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت ، تعمیر ربوہ اور۔۔کی طرف بھیجا۔اب کیا خدا تعالیٰ کو لاکھ کا ہندسہ نہیں آتا تھا۔جس خدا کو لاکھ کا ہندسہ نہیں آتا اس کو اسی کا ہندسہ بھی بھول سکتا ہے۔کوئی بات نہیں۔اصل سوال تو بھول چوک ہے۔جب بھول چوک ثابت ہو گئی تو اسی اور لاکھ کا کیا سوال ہے۔دراصل یہ حماقت کی بات ہے۔یہاں کلام میں تحسین پیدا کرنے کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔حسن کلام کے لئے ڈیفینیٹ (DEFINITE) بات پہلے بیان نہیں کی بلکہ الفاظ سے اس طرف اشارہ کر دیا ہے کہ تم اسے لاکھ کہہ لو یا لاکھ سے زیادہ کہہ لو۔مطلب یہ ہے کہ ہیں زیادہ۔تو ایسے موقع پر اعداد کو بیان نہیں کیا جاتا۔اگر خدا تعالیٰ یہاں لاکھ کہہ دیتا تو لوگ کہتے اس کا ثبوت دو کہ وہ واقعی ایک لاکھ تھے۔پس ایک طرف لاکھ یا کچھ زیادہ کہہ کر کلام میں حسن پیدا کر دیا اور دوسرے اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اندازہ ہے اور اندازہ پر کوئی کیا اعتراض کرے گا۔پس اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے حُسنِ کلام کے لئے قرآن کریم میں مِائَةِ أَلْفِ اَوْ يَزِيدُونَ لاکھ یا لاکھ سے کچھ زیادہ کہا ہے۔اسی طرح یہاں بھی حُسنِ کلام کے لئے یہ طریق اختیار کیا گیا ہے لیکن اس کا ایک دوسر ا جواب بھی ہے جو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے یا أَحْمَدُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ کہہ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اتاں جان کو ایک قبر میں دفن کیا ہے اور دونوں کو ایک جگہ رکھا ہے گویا دونوں وجو دوں کو ایک وجود قرار دیا ہے اور عمر کے الہام میں دونوں ہی کی عمر بتائی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام 75 سال کی عمر میں فوت ہوئے یعنی اسی سے پانچ سال کم اور حضرت اماں جان 85 سال کی عمر میں فوت ہو ئیں یعنی اتنی سے پانچ سال زیادہ۔گو یا الہام میں جو وحدت وجود بتائی گئی تھی اس سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اناں جان دونوں کے وجود ہیں۔ایک اتنی سال سے پانچ سال پہلے فوت ہو جاتا ہے اور ایک اسی سے پانچ سال بعد فوت ہو تا ہے گو یا الہام میں جس وجود کو ” و “ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا تھا اس کا ایک حصہ اسی سے پانچ سال کم میں فوت ہو گیا اور ایک حصہ اسی سے پانچ سال زیادہ عمر پا کر فوت ہو گیا اب یہ کتنی زبر دست پیشگوئی