انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 60

انوار العلوم جلد 23 60 وطن کی بے لوث خدمت کرنے پر کمر بستہ ہو جاؤ نے فرمایا ہے حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ 1 اس ارشاد نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ حُبّ الوطنی بھی اسلام کا ایک حصہ ہے۔ایمان بڑی اہم چیز ہے اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق وطن کی محبت بھی ایمان ہی کا ایک حصہ ہے اس لئے یہ بھی ایک اہم چیز ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔پس ہمارے نوجوانوں میں حُب الوطنی کا مادہ دوسروں سے زیادہ ہونا چاہئے اور اس کے عملی ثبوت کے طور پر انہیں اپنی قومی حکومت کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔قومی حکومت کو مضبوط کرنے کا ایک طریق یہ ہے کہ تم خواہ حکومت کے ملازم ہو یا کوئی اور کام کرتے ہو بہر حال دوسروں سے زیادہ محنت اور سنجیدگی سے اپنے فرائض کو سر انجام دو۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ چند مقررہ گھنٹے کام کر کے ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے حالانکہ یہ غلط ہے۔اصل کام وہ ہے جس کا خاطر خواہ نتیجہ بھی نکلے۔اگر نہیں نکلتا تو تم سمجھ لو کہ تمہارے کام میں نقص رہ گیا ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ نتیجہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہوتا ہے مگر اس فقرہ کا جو مفہوم لیا جاتا ہے وہ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ کا تو یہ قانون ہے کہ وہ صحیح طور پر محنت کرنے کا ضرور صحیح نتیجہ نکالتا ہے۔پس اگر صحیح نتیجہ نہیں نکلتا تو تم کیوں اسے خدا کی طرف منسوب کرتے ہو اور کیوں نہیں اسے اپنی کسی غلطی کا نتیجہ قرار دیتے۔حقیقت یہ ہے کہ جب یہ وہم ہو جائے کہ میں تو کام ٹھیک کرتا ہوں مگر خدا غلط نتیجہ نکال دیتا ہے تو پھر انسان اپنی اصلاح سے غافل ہو جاتا ہے۔اپنے ملک کی سچی خدمت کرنے کی راہ میں اس امر کو کبھی روک نہ بناؤ کہ ہماری مخالفت بہت ہوتی ہے جب ہم یہ جانتے ہیں کہ فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑ کا کر ہماری مخالفت کرنے والے ملک کے دشمن ہیں اور دوسری طرف ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ہی ملک کے حقیقی خیر خواہ اور وفادار ہیں تو خود اندازہ لگاؤ کہ اس مخالفت کے نتیجہ میں ہمیں ملک کی خدمت میں کمزور ہو جانا چاہئے یا پہلے سے بھی بڑھ کر اس میں حصہ لینا چاہئے۔جس چیز کے لئے سچی محبت اور ہمدردی ہوتی ہے اسے خطرے میں دیکھ کر تو قربانی کا جذبہ تیز ہوا کرتا ہے نہ کہ کم۔پس اگر تم ملک کے بچے خیر خواہ ہو اور تمہاری مخالفت کرنے والے