انوارالعلوم (جلد 23) — Page 561
انوار العلوم جلد 23 نتیجہ تھا۔561 مسئلہ خلافت خدا تعالیٰ نے جو عدے پہلے مسلمانوں سے کئے تھے وہ وعدے اب بھی ہیں۔اس نے جب وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ 4 فرمایا تو الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلحت فرمایا۔حضرت ابو بکر سے نہیں فرمایا، حضرت عمرؓ سے نہیں فرمایا، حضرت عثمان سے نہیں فرمایا، حضرت علیؓ سے نہیں فرمایا۔پھر اس کا کہیں ذکر نہیں کہ خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ صرف پہلے مسلمانوں سے کیا تھا یا پہلی صدی کے مسلمانوں سے کیا تھا یا دوسری صدی کے مسلمانوں سے کیا تھا بلکہ یہ وعدہ سارے مسلمانوں سے ہے چاہے وہ آج سے پہلے ہوئے ہوں یا 200 یا 400 سال کے بعد آئیں۔وہ جب بھی آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحت کے مصداق ہو جائیں گے ، وہ اپنی نفسانی خواہشات کو مار دیں گے ، وہ اسلام کی ترقی کو اپنا اصل مقصد بنالیں گے ، شخصیات، جماعتوں، پارٹیوں، جتھوں، شہروں اور ملکوں کو بھول جائیں گے تو ان کے لئے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ قائم رہے گا کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں سے چاہے وہ عرب کے ہوں، عراق کے ہوں، شام کے ہوں، مصر کے ہوں، یورپ کے ہوں، ایشیا کے ہوں، امریکہ کے ہوں، جزائر کے ہوں، افریقہ کے ہوں، کیا ہے کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ وہ انہیں اس دنیا میں اپنا نائب اور قائمقام مقرر کرے گا۔اب اس دُنیا میں شام، عرب اور نائیجیریا، کینیا، ہندوستان، چین اور انڈونیشیا ہی شامل نہیں بلکہ اور ممالک بھی ہیں۔پس اس سے مراد دُنیا کے سب ممالک ہیں۔گویا وہ موعود خلافت ساری دُنیا کے لئے ہے۔فرماتا ہے وہ تمہیں ساری دُنیا میں خلیفہ مقرر کرے گا كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِم اُسی طرح جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ مقرر کیا۔اس آیت میں پہلے لوگوں کی مشابہت ارض میں نہیں بلکہ استخلاف میں ہے۔گویا فرمایا ہم انہیں اُسی طرح خلیفہ مقرر کریں گے جس طرح ہم نے پہلوں کو خلیفہ مقرر کیا اور پھر اس قسم کے خلیفے مقرر کریں گے جن کا اثر تمام دنیا پر ہو گا۔