انوارالعلوم (جلد 23) — Page 545
انوار العلوم جلد 23 545 مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1953ء کے موقع پر۔۔۔میں نے شروع میں بتایا تھا کہ مجلس خدام الاحمدیہ کو قائم کرنے کی غرض ہی یہی تھی کہ نوجوان دین میں ترقی کریں اور اس قابل ہو جائیں کہ انہیں عزت دی جائے مگر گزشتہ حالات سے خدام الاحمدیہ نے کوئی زیادہ فائدہ نہیں اُٹھایا۔تمہاری غلطیوں کی وجہ سے یا ہماری غلطیوں کی وجہ سے، بعض ایسی دیواریں قائم ہو گئی ہیں کہ اب سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی انہیں توڑ نہیں سکتا۔تم اگر یہ سمجھتے ہو کہ ہم تدبیر سے انہیں توڑلیں گے تو یہ غلط ہے۔خدا تعالیٰ ہی انہیں توڑے تو توڑے اور اس کی یہی صورت ہے کہ تم دُعائیں کرو، تہجد پڑھو اور ذکر الہی کرو۔یہی ذرائع ہیں جن سے یہ دیواریں ٹوٹ سکتی ہیں اور کامیابی ہو سکتی ہے لیکن افسوس ہے کہ میرے پاس ایسی رپورٹیں آرہی ہیں کہ نوجوانوں میں نماز اور دُعا کی اتنی عادت نہیں رہی جتنی پرانے لوگوں میں تھی اور یہ نہایت خطرناک بات ہے۔تمہارے لئے تو پرانے لوگوں سے زیادہ فتنے ہیں اس لئے پہلوں کے مقابلہ میں تمہارے سامنے بہت زیادہ مشکلات ہیں اور ان کو دور کرنا اور ان کا مقابلہ کرنا تمہارے بس اور قابو میں نہیں۔اس کا مقابلہ تو وہی کرے گا جو خدا تعالیٰ تک پہنچ سکے اور جب خدا تعالیٰ کسی بات میں دخل دیتا ہے تو وہ آپ ہی آپ حل ہو جاتی ہے۔پس اگر تم نے موجودہ مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے تو تمہیں اپنے اندر اصلاح پیدا کرنی چاہئے۔میں نے پہلے بھی جماعت کو توجہ دلائی ہے اور اب پھر توجہ دلاتا ہوں کہ تمہاری غرض نعرے اور کبڈیاں نہیں۔نعرے اور کبڈیاں بالکل بیکار ہیں۔یہ نعرے اور کبڈیاں تو محض ایسے ہی ہیں جیسے کوئی شخص کپڑے پہنے تو ان پر فیتے سے اپنا نام بھی لکھوالے۔یہ بیکار چیزیں ہیں۔تم نمازوں اور دعاؤں میں ترقی کرو اور نہ صرف خود ترقی کرو بلکہ ہر شخص اپنے ہمسایہ کو دیکھے اور اس کی نگرانی کرے تاکہ ساری جماعت اس کام میں لگ جائے۔تم حسد کی عادت پیدا نہ کرو بلکہ آپس میں تعاون کی روح پیدا کرو۔خدام الاحمدیہ کی تنظیم تمہارے لئے ٹریننگ کے طور پر ہے تاکہ جب تمہیں خدمت کا موقع ملے تو تم میں اتنی قابلیت ہو کہ تم امیر بن جاؤ یا سیکر ٹری بن جاؤ۔اس لئے تمہیں جماعت کے عہدیداروں سے