انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 48

انوار العلوم جلد 23 48 اخبار ”پیغام صلح کے اس بیان کی تردید کہ مبائعین نے۔امتی نبوت بھی نبوت کی ایک قسم ہے۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہمیشہ سے نبی مانتے آئے ہیں اور اب بھی مانتے ہیں لیکن ہم نے کبھی بھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوئی نئی شریعت لائے تھے یا انہوں نے کوئی نیا دین نکالا تھایا انہوں نے کوئی نیا کلمہ بنایا تھا یا انہوں نے کوئی نیا قبلہ تجویز کیا تھا۔ہمارا ہمیشہ سے یہی عقیدہ رہا ہے کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع تھے اور امتی تھے اور آپ کی طرح آپ کی سب جماعت بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر قیامت تک ایک ہی امت چلے گی اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہو گی مسیح موعود یا اور کوئی جو مصلح آئے وہ کسی نئی امت کا بانی نہیں ہو گا بلکہ خود امتی ہو گا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور تابع ہو گا نبی تلی کا صلی اللہ علیہ وسلم۔پس جو کچھ آپ نے پایا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے پایا اور آپ کی تمام عزت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے خفیف سے خفیف سرتابی کو بھی آپ کفر سمجھتے تھے بلکہ حقیقتا یہی عقیدہ بناء تھا اس عقیدہ کی کہ عام مسلمانوں میں اب حقیقت اسلام باقی نہیں رہی کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور تعلیم سے وہ سر تابی کرتے ہیں۔پس جو کچھ میں نے کہا ہے اور جو ہمیشہ میں کہتا چلا آیا ہوں وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عہدہ نبوت مستقلہ شرعیہ اور مجدد کے درمیان کا عہدہ لیکن ہے وہ نبوت ہی کی ایک قسم اور اب بھی ہمارا یہی عقیدہ ہے اور ہم نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ایک وقت تھا کہ جماعت غیر مبائعین اس قسم کی بحثوں میں پڑ کر یہ خوشی محسوس کیا کرتی تھی کہ اس قسم کی بحث میں جب مبائعین کو پھنسایا جائے گا تو غیر احمدیوں میں ان کی بدنامی ہو گی لیکن واقعات نے ان کی اس پالیسی کو غلط ثابت کر دیا ہے کیونکہ باوجود ان حیلوں کے بڑھی ہماری ہی جماعت۔وہ اسی طرح کے اسی طرح رہے اور اب تو وہ زمانہ بھی ختم ہو چکا ہے کیونکہ اس وقت غیر احمدی ہمارے حوالوں سے