انوارالعلوم (جلد 23) — Page 498
انوار العلوم جلد 23 498 موجودہ حالات میں اپنے فرائض کو پہچانو مسلمانوں میں بانٹ دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کہہ کر کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔اب جو کچھ کرنا ہو گا خود مسلمانوں ہی کو کرنا ہو گا، ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔اسی طرح رفع یدین اور امین بالجہر وغیرہ کے جھگڑے عبث ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف حالات اور مختلف مزاجوں کے لحاظ سے مسائل سمجھانے میں مختلف طریق اختیار فرمائے تھے۔تمہیں جس میں آسانی ہو اسی طریق پر عمل کرو۔لوگوں کو ایسے مولویوں کی محتاجی سے نجات دلا دی۔پھر مسلمانوں میں اس بات پر اختلاف چلا آرہا تھا کہ قرآن مجید کی کتنی آیات منسوخ ہیں۔مختلف لوگ پانچ سے لے کے سات سو آیات تک مختلف تعداد کے قائل تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر اعلان کر دیا کہ قرآن کا ایک شوشہ بھی منسوخ نہیں ہے۔یہ سارے کا سارا قابل عمل ہے اور اس طرح لوگ دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں مولویوں کی غلامی سے آزاد ہو گئے۔ایسی صورت میں ان مولویوں کا سیخ پا ہونا لازمی تھا کیونکہ اسی طرح ان کی اجارہ داری ختم ہوتی تھی۔انہیں اس کے سوا اور کوئی راہ نہ سوجھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف غلط فہمیاں پھیلا کر لوگوں کو بد ظن کر دیا جائے۔چنانچہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو وسیع کریں، اپنے اپنے حلقہ میں میل جول بڑھائیں۔ہمارے ملنے جلنے سے ہی بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی کیونکہ ہم سے مل کر دوسروں کو معلوم ہو گا کہ ہم تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی اُمت ہیں۔ہمارا کلمہ ، ہماری نماز ، ہمارا روزہ، ہمارا حج ، ہماری زکوۃ سب وہی ہے اور مولوی صاحبان جو کہتے ہیں وہ درست نہیں ہے لیکن اگر یہ غلط فہمیاں اسی طرح پھیلی رہیں تو اس سے ہماری مشکلات میں بے حد اضافہ ہو جائے گا۔پس احمدی خواتین کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہئے اور دوسری خواتین سے میل جول بڑھا کر یہ غلط فہمیاں دور کرنی چاہئیں۔" (روز نامہ المصلح 27 اگست 1953ء)