انوارالعلوم (جلد 23) — Page 437
انوار العلوم جلد 23 437 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ صیتیں ان کے مذہب باطل نے ہمارے ملک کی نیکیوں کو دُور کر دیا اور کوئی گھر ایسانہ رہا جس میں یہ مذہب باطل داخل نہ ہو۔۔۔۔۔اسلام پر وہ پڑیں جن کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں ہے۔پس وہ اُس شہر کی طرح ہو گیا جو مسمار ہو جائے اور اس جنگل کی طرح جو وحشیوں سے بھر جائے“۔405 (ب) ”ہم صرف اُن لوگوں کی طرف توجہ کرتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بصراحت یا اشارات سے گالیاں دیتے ہیں اور ہم اُن پادری صاحبوں کی عزت کرتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں دیتے اور ایسے دلوں کو جو اس پلیدی سے پاک ہیں ہم قابل تعظیم سمجھتے ہیں اور تعظیم و تکریم کے ساتھ اُن کا نام لیتے ہیں اور ہمارے کسی بیان میں کوئی ایسا حرف اور نقطہ نہیں ہے جو اُن بزرگوں کی کسریشان کرتا ہو اور صرف ہم گالی دینے والوں کی گالی اُن کے منہ کی طرف واپس کرتے ہیں تا اُن کے افتراء کی پاداش ہو“۔406 (ج) ”آپ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہزار ہا مسلمان مرتد ہو کر دین اسلام کو چھوڑ گئے ہیں۔پس سوچ لو کہ کیا یہ نہایت بڑی مصیبت ہمارے دین محمدی پر نہیں ہے ؟ اور پھر انہوں نے علاوہ بد مذہبی پھیلانے کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بھی دیں اور ہمارے دین اسلام پر اعتراض کئے اور ہجو کی اور بات کو انتہا تک پہنچا دیا۔کیا خدا نے ان کو ہمیں دُکھ دینے کیلئے موقع دیا اور ہمیں نہ دیا؟ 407 (1) اس زمانہ میں فسادِ عظیم صلیبی کارروائیوں کا فساد ہے۔اسی فساد نے بہت سے بیابانی اور شہری لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔پس یہ امر واجب ہے کہ مجدد اس صدی کا اس اصلاح کے لئے آوے اور بموجب منشاء احادیث کے کسر صلیب اور قتل خنازیر کرے“ 408 مندرجہ بالا عبارتوں سے (جو سب کی سب نجم الھدی کی ہیں اور مجلس عمل کی