انوارالعلوم (جلد 23) — Page 38
انوار العلوم جلد 23 38 احرار کو چیلنج اس کے مینیجر اس پر کام کر رہے ہیں اس لئے کسی شخص کو اس پر اعتراض کی گنجائش نہ ہو سکتی ہے اور نہ کبھی ہوئی ہے۔چوتھا اعتراض یہ ہے کہ جاگیر داری کے قانون سے ڈر کر میں یہ زمین فروخت کر رہا ہوں۔اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ جاگیر داری کے قانون سے ڈر کر فروخت کرنانہ شرعاً جرم ہے نہ قانونا جرم ہے۔جس دن تک وہ قانون پاس ہو۔اس دن تک ہر جاگیر دار اپنی جاگیر فروخت کر سکتا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا اور نہ شریعت کا اس بات پر کوئی اعتراض ہے کہ کوئی شخص اپنی کوئی چیز مناہی سے پہلے فروخت کر سکے۔باقی "آزاد" اور احرار کے دماغ تو ہیں بالکل کند کیونکہ جو شخص غلط بیانی پر اتر آتا ہے وہ سوچنے کا عادی نہیں رہتا۔ورنہ ہر شخص جان سکتا ہے کہ سندھ میں میری کوئی جاگیر ہو ہی نہیں سکتی۔میں پنجابی ہوں مجھے سندھ میں کیوں جاگیر ملنی تھی۔جاگیر نام ہے اس زمین کا جو حکومتِ وقت کی طرف سے بطور عطیہ کے ملی ہو۔خصوصاً وہ جس کا لینڈ ریونیو معاف ہو۔لوگ محض فخر کے طور پر ایسی زمین کو بھی جاگیر کہہ دیتے ہیں جو اور نمنٹ نے دی ہو اور اس کا لینڈ ریونیو معاف نہ ہو لیکن اصل اصطلاح یہی ہے کہ جو زمین گورنمنٹ نے دی ہو اور اس کا لینڈ ریونیو معاف کر دیا ہو وہ جاگیر ہے۔میں اپنی کتاب " اسلام اور ملکیت زمین " میں خود لکھ چکا ہوں کہ جاگیر داری اسلام میں ناجائز ہے کیونکہ لینڈ ریونیو، زکوۃ کا قائم مقام ہے اور زکوۃ حکومت معاف نہیں کر سکتی۔نیز امراء کے لئے زکوۃ لینی جائز نہیں اور میں نے اس کتاب میں حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جاگیروں کو اُڑا دے اور جاگیر داروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خود اس حق کو چھوڑ دیں کیونکہ یہ آمد اسلام کے خلاف ہے اور امراء کو زکوۃ میں سے حصہ نہیں لینا چاہئے۔پس یہ کیونکر خیال کیا جاسکتا ہے کہ میرے پاس کوئی جاگیر ہے۔نہ میں سندھ کا باشندہ ہوں اور نہ میں سندھ کی حکومت کا کبھی ملازم رہا، نہ میں جاگیر کا قائل۔میرے پاس جاگیر آہی کس طرح سکتی تھی اور جو چیز آنہیں سکتی تھی اس کی فروخت کا سوال ہی کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔یا نچواں اعتراض یہ ہے کہ میں انجمن کی زمین کی قیمت کو اپنی ذات پر خرچ