انوارالعلوم (جلد 23) — Page 426
انوار العلوم جلد 23 در دست داشته اند 426 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ یعنی اے قیصرہ! میں آپ کو محض اللہ نصیحت کرتا ہوں کہ مسلمانانِ ہند تیرے خاص بازو ہیں اور ان کو تیری مملکت میں ایک خصوصیت حاصل ہے۔اس لئے تجھے چاہئے کہ مسلمانوں پر خاص نظر عنایت رکھے اور ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائے اور ان کی تالیف قلوب کرے اور ان کو اعلیٰ سے اعلی ملکی مناصب اور عہدوں پر سر فراز کرے۔وہ اس ملک پر ایک ہزار سال تک حکومت کر چکے ہیں اور اُن کو اس ملک میں ایک خاص شان حاصل تھی اور وہ ہندوؤں پر حاکم رہے ہیں۔اس لئے تجھے یہی مناسب ہے کہ تو اُن کی عزت و تکریم کرے اور بڑے سے بڑے عہدے ان کے سپر د کرے۔(ب) پھر اسی آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ 266،265 حاشیہ بر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تکفیر کرنے والے علماء کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے آپ کو دوسرے عام مسلمانوں کے ساتھ بدیں الفاظ شامل فرماتے ہیں:۔”مولوی لوگ اپنے نفسانی جھگڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور دعوتِ اسلام کی نہ لیاقت رکھتے ہیں اور نہ اس کا کچھ جوش، نہ اس کی کچھ پرواہ۔اگر ان سے کچھ ہو سکتا ہے تو صرف اسی قدر کہ اپنی ہی قوم اور اپنے ہی بھائیوں اور اپنے جیسے مسلمانوں اور اپنے جیسے کلمہ گویوں اور اپنے جیسے اہل قبلہ (حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کے ماننے والوں۔ناقل) کو کافر قرار دیں۔دجال کہیں اور بے ایمان نام رکھیں فتویٰ لکھیں کہ اُن سے ملنا جائز نہیں اور اُن کا جنازہ پڑھنا روا نہیں“۔(ج) پھر صفحہ 339 پر تحریر فرماتے ہیں:۔مسیح موعود کا دعویٰ اس حالت میں گراں اور قابلِ احتیاط ہو تا کہ جب اس دعویٰ کے ساتھ نعوذ باللہ کچھ دین کے احکام کی کمی و بیشی ہوتی اور ہماری عملی حالت دوسرے مسلمانوں سے کچھ فرق رکھتی۔