انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 37

انوار العلوم جلد 23 37 احرار کو چیلنج نام پر خریدی گئی ہے لیکن شروع دن سے اس کے اوپر میرے کارکن کام کر رہے ہیں اور میرے بینک اکاؤنٹ اس بات کے شاہد ہیں کہ بینکوں کے ذریعہ سے میرے حساب سے اس کی قیمت ادا ہوئی ہے۔پس یہ کوئی جھگڑے والا سوال ہی نہیں۔پاکستان کے چار زبر دست بینک اس بات کے گواہ موجود ہیں۔ان بینکوں میں میرے نام کے کھاتے الگ کھلے ہوئے ہیں، صدر انجمن احمدیہ کے نام کے کھاتے الگ کھلے ہوئے ہیں، تحریک جدید کے نام کے کھاتے الگ کھلے ہوئے ہیں اور ان کھاتوں سے وہ قیمتیں ادا ہوئی ہیں۔بعض دفعہ ایسا ضرور ہوا ہے کہ ضرورت کے موقع پر ایک دوسرے کے کھاتے سے قرض لے لیا گیا ہے لیکن یہ ثبوت بھی بینکوں سے مل سکتا ہے کہ اگر ضرورت کے موقع پر میں نے دس روپے لئے ہیں تو اس کے مقابلہ میں ضرورت کے موقع پر تحریک جدید یا انجمن کو میں نے سو روپیہ دیا ہے۔یعنی قرض کے معاملہ میں بھی میرا پہلو بھاری ہے اور تحریک جدید اور انجمن کا پہلو کمزور ہے۔میں ان کا مقروض نہیں رہا وہ میرے مقروض رہے ہیں۔یہ بات میں زمینوں کے متعلق لکھ رہا ہوں ورنہ یوں انجمن مجھے قرض کے طور پر پچھلے سال تک ماہوار رقم گزارہ کے لئے دیتی رہی ہے اور وہ رقم برابر جماعت کے بجٹ میں پڑتی رہی ہے اور حساب میں موجود ہے۔(ڈیڑھ سال سے میں نے وہ رقم لینی بند کر دی ہے اور سابق قرض اُتارنے کی فکر میں ہوں) دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک فروخت کرنے کا سوال ہے یہ ٹھیک ہے کہ میں کچھ زمین فروخت کر رہا ہوں لیکن وہ زمین انجمن کی نہیں ہے۔نہ وہ ان زمینوں میں سے ہے جو میری ہیں لیکن انجمن کے نام پر خریدی گئی ہیں۔پس اس کے متعلق نہ کوئی حقیقی اعتراض پید اہو سکتا ہے نہ کوئی غلط نہیں۔تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ بات سراسر غلط ہے کہ کوئی انجمن کی زمین میرے قبضہ میں ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ انجمن کی کچھ زمین میرے نام پر خریدی ہوئی ضرور ہے لیکن میرے قبضہ میں وہ نہیں ہے۔وہ انجمن ہی کے قبضہ میں ہے اور