انوارالعلوم (جلد 23) — Page 421
انوار العلوم جلد 23 421 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ بریگیڈیئرز کے ہمراہ قادیان کا دورہ کیا۔اس پارٹی کا متفقہ بیان ہے کہ قادیان کے تمام حصے صحرا کا منظر پیش کر رہے ہیں، ہر جگہ ہو کا عالم ہے۔البتہ تین علاقے ایسے ہیں جہاں ایسے مسلمان دکھائی دیئے جو کفار کے مقابلہ کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کا عزم صمیم کر چکے ہیں۔ان لوگوں کے چہروں سے بشاشت ٹپکتی ہے۔۔۔۔پناہ گزینوں کی حالت بہت ابتر ہے۔مقامی ملٹری نے انہیں خوراک دینے سے انکار کر دیا اور احمد یہ انجمن سے کہا ہے کہ وہ ان مصیبت زدوں کے لئے خوراک کا انتظام کرے۔چنانچہ انجمن اپنا راشن کم کر کے ان پناہ گزینوں کو خوراک دے رہی ہے “۔383 مولانا محمد علی جوہر کی تصدیق اس سوال کے جواب کے آخر میں ہم جماعت احمدیہ کے متعلق مولانا محمد علی جوہر مرحوم کی رائے بیان کر دینا ضروری سمجھتے ہیں۔مولانا محمد علی ایسے بڑے لیڈر تھے کہ قائد اعظم اور مولانا محمد علی کے مقابلہ میں اور کوئی سیاسی لیڈر نہیں ٹھہر سکتا اور اسلام کی اتنی غیرت رکھتے تھے کہ دشمن بھی اُن کی اِس خوبی کو تسلیم کرتے تھے۔انہوں نے اپنے اخبار ” ہمدرد “ دہلی مؤرخہ 24 ستمبر 1927ء میں لکھا:۔ناشکر گزاری ہو گی کہ جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور اُن کی اس منظم جماعت کا ذکر ان سطور میں نہ کریں جنہوں نے اپنی تمام تر توجہات ہلا اختلاف عقیدہ تمام مسلمانوں کی بہبودی کے لئے وقف کر دی ہیں۔یہ حضرات اس وقت تک اگر ایک جانب مسلمانوں کی سیاسیات میں دلچسپی لے رہے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں کی تنظیم و تجارت میں بھی انتہائی جد وجہد سے منہمک ہیں اور وہ وقت دور نہیں جبکہ اسلام کے اس منظم فرقہ کا طرزِ عمل سوادِ اعظم اسلام کے لئے بالعموم اور اُن اشخاص کے لئے بالخصوص جو بسم اللہ کے