انوارالعلوم (جلد 23) — Page 23
انوار العلوم جلد 23 23 پاکستان میں قانون کا مستقبل بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ پاکستان میں قانون کا مستقبل (محررہ جولائی 1952ء) سندھ مسلم لاء کالج نے ایک سہ ماہی رسالہ " پاکستان لاء ریویو" کے نام سے کراچی سے جاری کیا جس کے اگست 1952ء کے شمارہ میں حضرت مصلح موعود کار قم فرمودہ حسب ذیل مقالہ سپر د اشاعت ہوا۔” مجھے یہ معلوم کر کے از حد مسرت ہوئی ہے کہ سندھ مسلم لاء کالج عنقریب ایک سہ ماہی رسالہ اس مقصد کے لئے جاری کر رہا ہے کہ وہ اپنے قارئین کو قانون کے سائنٹیفک طور پر مطالعہ کرنے کی طرف عموماً اور پاکستان میں قوانین کو بہتر بنانے کے متعلق امور پر بحث کرنے کی طرف خصوص را ہنمائی کر سکے تاکہ اس طرح عام لوگوں اور ماہرین علم قانون کے نظریات اور خیالات میں یگانگت اور ہم آہنگی پیدا کی جاسکے اور تا کہ ماہرین علم قانون اپنے اہم فرائض سے بہتر طریق پر زیادہ سہولت کے ساتھ عہدہ بر آ ہو وسکیں۔اس میں شک نہیں کہ علم قانون دوسرے علوم کی طرح بلکہ ان میں سے اکثر سے کچھ زیادہ ہی اس بات کا محتاج ہے کہ اس کو انسانی عمل اور تجربہ کی روشنی میں منضبط اور مرتب کیا جائے تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ انسانوں کی صحیح راہنمائی کر سکے لیکن بد قسمتی سے ایشیا کے باشندے کئی صدیوں سے غیروں کی ماتحتی میں رہنے کی وجہ سے اس ضروری علم سے بالکل بے بہرہ ہو چکے ہیں۔اب جبکہ کم از کم ایشیا پر مکمل آزادی کا سورج طلوع ہو چکا ہے اور اس کے باشندوں نے بھی دنیا کی آزاد اقوام کی طرح اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا