انوارالعلوم (جلد 23) — Page 241
انوار العلوم جلد 23 241 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ بلکہ ان آیات کے مد نظر وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ کے معنے سوائے اس کے کچھ نہیں ہو سکتے کہ نوح اور ابراہیمؑ کی اولاد میں نبوت جاری رہی اور یہ معنے نہیں نکالے جاسکتے کہ اُن کی قوموں کے سوا باہر کوئی نبی کبھی نہیں آیا۔جو قومیں کسی نبی کو نہیں مانتیں اُن کے متعلق قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِةٍ إِذْ قَالُوا مَا انْزَلَ اللَّهُ عَلَى بَشَرٍ مِنْ شَيْءٍ - 28 یعنی اُن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا اندازہ نہیں کیا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی بندے پر کوئی وحی نازل نہیں کی۔گویا وہ لوگ الہامِ الہی کے قطعا منکر تھے۔دوسرا گروہ وہ تھا جو نبوت کا تو قائل تھا لیکن ہر قوم پر اسے یہ خیال ہوتا تھا کہ نبوت کا سلسلہ بند ہونا چاہئے اور آئندہ کسی قسم کا کوئی پیغام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آنا چاہئے۔ان کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا الفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا - 29 پھر فرماتا ہے قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا۔30 یعنی جو کچھ ہمارے باپ دادوں کے پاس تعلیم تھی وہی ہمارے لئے کافی ہے کسی نئی تعلیم کی ضرورت نہیں۔ہندو قوم کے عقیدہ کی بنیاد اسی پر ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ ویدوں کے رشیوں پر اُتارا۔اُس کے بعد دُنیا میں اُس کا کلام آنا بند ہو گیا اور اس تعلیم کے بعد کسی اور تعلیم کی ضرورت نہیں۔بعض لوگ اس بات کے تو قائل نہیں تھے کہ ابتدائے عالم میں جو وحی نازل ہوئی وہی کافی تھی لیکن وہ وحی کے تسلسل کو بند کرنے والے ضرور تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے متعلق فرماتا ہے وَ لَقَدْ جَاءَكُم يُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَاكٍ مِمَّا جَاءَكُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفُ مُرْتَابُ۔21 اور تمہارے پاس یقیناً یوسف بھی اس سے پہلے کھلے کھلے نشانات لے کر آیا تھا لیکن اُس کی لائی ہوئی تعلیم کے متعلق متواتر شبہ میں رہے۔یہاں تک کہ جب وہ فوت ہو گیا تو تم یوں کہنے لگ گئے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں اور شک میں پڑنے والوں کو گمراہ قرار دیا کرتا ہے۔31