انوارالعلوم (جلد 23) — Page 16
انوار العلوم جلد 23 16 سب کا فرض ہے کہ وہ درس القرآن میں شامل ہوا کریں وہ اگر کہیں کہ اے خدا! ہم نے تیرے نشانات دیکھے ، تیری آیات پڑھیں، تیرا کلام شنا۔اب ہم قرآن کریم ختم کرنے لگے ہیں، اے خدا! تو ایک اور نشان ہمارے لئے دکھا جس سے ہمارے ایمان تازہ ہوں تو یہ معقول بات ہو گی۔جس شخص نے قرآن سنایا ہے وہ اگر کہے کہ اے اللہ ! میں سُنی سنائی باتیں سناتا رہا ہوں تو اب ایک زندہ نشان میرے لئے بھی ظاہر فرما تو یہ معقول بات ہو گی لیکن جو درس میں آتا ہی نہیں رہا وہ کیا کہے گا؟ کیا وہ یہ کہے گا کہ اے خدا! سارا مہینہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات عنائے جاتے رہے ، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے نشانات سُنائے جاتے رہے لیکن میں نے اس کی پرواہ نہیں کی۔آج اور لوگ آئے ہیں تو میں بھی آگیا ہوں تو میری دُعا بھی سُن لے۔کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ ایسے شخص کی دُعا قبول ہو سکتی ہے؟ یہ تو ویسا ہی لطیفہ ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک زمیندار تھا جس نے ابھی شہر نہیں دیکھا تھا۔اس کی بیوی اسے روز کہتی کہ مجھے بڑی شرمندگی محسوس ہوتی ہے جب لوگ مجھے طعنے دیتے ہیں کہ تیرے خاوند نے ابھی شہر بھی نہیں دیکھا۔پانچ میل پر تو شہر ہے کسی دن جا اور جا کر شہر دیکھ آ۔ایک دن اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ تُو ہر روز مجھے طعنے دیتی رہتی ہے کہ تو نے ابھی تک شہر نہیں دیکھا تو مجھے آٹا گوندھ دے میں شہر دیکھ آتا ہوں۔بیوی نے آٹا گوندھ کر دے دیا اور وہ شہر کو چل پڑا۔چادر اس نے کندھے پر ڈال لی اور بازار میں پھرتا رہا۔دیہات میں اگر کوئی آئے تو وہ کسی گھر میں چلا جاتا ہے اور گھر والوں سے کہتا ہے میری روٹی بھی پکا دو اور وہ اسے روٹی پکا دیتے ہیں بلکہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ کہہ ا دیتے ہیں آٹے کی کیا ضرورت ہے روٹی ہم نے پکائی ہی ہے تم یہاں آکر روٹی کھالینا لیکن شہروں میں یہ رواج نہیں ہو تا وہاں تو نفسا نفسی ہوتی ہے۔وہ زمیندار کسی گھر میں گھسا اور کہا آٹا لے لو اور میری روٹی پکا دو۔گھر والوں نے کہا نکلو باہر تم ہمارے مکان میں کیوں ٹھے ہو۔وہ دوسرے گھر گیا تو وہاں سے بھی یہی جواب ملا، تیسرے گھر گیا تو وہاں بھی یہی سلوک ہوا، یہاں تک کہ وہ تھک گیا اور عصر کا وقت آگیا کسی نے اسے روٹی پکا کر نہ دی۔وہ اب ایک جگہ حیران ہو کر کھڑا ہو گیا۔پاس ہی ایک حلوائی پوریاں مل رہا تھا۔اس نے