انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 178

انوار العلوم جلد 23 178 تعلق باللہ سے فتویٰ دیتے ہیں کہ اُس کا روزہ ضائع ہو گیا۔غرض اس نے اس پر خوب بحث کی۔صبح وہ گھبرایا ہوا حضرت خلیفہ اول کے پاس آیا۔زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا مگر چونکہ حضرت خلیفہ اول ہی درس و غیرہ دیا کرتے تھے اس لئے آپ کی مجلس میں بھی لوگ کثرت سے آیا جایا کرتے تھے۔آتے ہی کہنے لگا کہ آج رات تو مجھے بڑی ڈانٹ پڑی ہے۔آپ نے فرمایا کیا ہوا؟ کہنے لگا رات کو میں یہ بحث کرتا رہا کہ مولویوں نے ڈھونگ رچایا ہوا ہے کہ روزہ دار ذرا سحری دیر سے کھائے تو اُس کا روزہ نہیں ہوتا۔میں کہتا تھا کہ جس شخص نے بارہ گھنٹے یا چودہ گھنٹے فاقہ کیا وہ اگر پانچ منٹ دیر سے سحری کھاتا ہے تو حرج ہی کیا ہے۔اس بحث کے بعد میں سو گیا تو میں نے رویا میں دیکھا کہ میں نے تانی لگائی ہوئی ہے ( فلاسفر جولاہا تھا اس لئے خواب بھی اُسے اپنے پیشہ کے مطابق ہی آئی) دونوں طرف میں نے کیلیے گاڑ دیئے ہیں اور تانی کو پہلے ایک کیلے سے باندھا اور پھر میں اُسے دوسرے کیلے سے باندھنے کے لئے لے چلا۔جب کیلے کے قریب پہنچا تو دو انگلی ورے سے تانی ختم ہو گئی۔میں بار بار کھینچتا تھا کہ کسی طرح اسے کیلے سے باندھ لوں مگر کامیاب نہ ہو سکا اور میں نے سمجھا کہ میر اسارا سوت مٹی پر گر کر تباہ ہو جائے گا چنانچہ میں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ میری مدد کے لئے آؤ۔دو انگلیوں کی خاطر میری تانی چلی۔دو اُنگلیوں کی خاطر میری تانی چلی۔اور یہی شور مچاتے مچاتے میری آنکھ کھل گئی۔جب میں جاگا تو میں نے سمجھا کہ اس رؤیا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مسئلہ سمجھایا ہے کہ دو انگلیوں جتنا فاصلہ رہ جانے سے اگر تانی خراب ہو سکتی ہے تو روزہ میں تو پانچ منٹ کا فاصلہ کہہ رہے ہو اُس کے ہوتے ہوئے کسی کا روزہ کس طرح قائم رہ سکتا ہے۔وہ تو فلاسفر کا لطیفہ تھا جس نے یہ کہا تھا کہ اگر پانچ منٹ بعد سحری کھائی جائے تو کیا حرج ہے۔راولپنڈی کے ایک مولوی کا قصہ مشہور ہے کہ اُس کا ایک شاگرد اُس کے پاس آیا اور کہنے لگا حضور! میں ایک مسئلہ دریافت کرنے آیا ہوں۔اگر نماز پڑھتے ہوئے تھوڑی سی ہوا خارج ہو جائے تو کیا وضو قائم رہتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے ؟ اس نے کہا وضو تو ٹوٹ جائے گا۔کہنے لگا آپ میرا مطلب سمجھے نہیں۔میرا مطلب یہ ہے کہ اگر بہت