انوارالعلوم (جلد 23) — Page 108
انوار العلوم جلد 23 108 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔گو الزام تو ہم پر لگایا جاتا ہے کہ احمدی افسر اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے احمدیوں کی مدد کرتے ہیں لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے۔حقیقت ہے کہ اس بارے میں احمدیوں سے تعصب برتا جاتا ہے اور ان کو ان کے جائز حقوق سے محروم کیا جارہا ہے اور اس طرح ان کی حق تلفی کی جاتی ہے اور اس حق تلفی پر پردہ ڈالنے کے لئے اُلٹا احمدیوں پر الزام لگایا جارہا ہے۔ہم حکومت کے سامنے کئی ایک ایسی مثالیں پیش کر سکتے ہیں جب کہ مختلف محکموں میں احمدیوں کو ملازمت یا ترقی سے صرف اس لئے محروم کیا گیا کہ وہ احمدی ہیں حالانکہ ان کی تعلیم ، تجربہ ، قابلیت اور گزشتہ ریکارڈ ان کے حق میں تھے لیکن ہم نے ان حق تلفیوں پر کبھی شور نہیں مچایا کیونکہ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس قسم کی حق تلفی اور تعصب کا بہترین علاج یہ ہے کہ ہم اپنی تعلیم ، قابلیت، محنت، دیانتداری اور اچھے اخلاق کے معیار کو اور بلند کر کے ان کا مقابلہ کریں نہ کہ شور مچائیں۔اگر ہمارے نوجوان ہماری تعلیم پر عمل کریں گے تو اس قسم کی حق تلفی زیادہ عرصہ نہیں ہو سکتی اور نوکریاں اور ملازمتیں آپ ان کے پاس آئیں گی۔ذمہ دار پر میں نے اپنے فرض کو ادا کیا مجھے بڑی خوشی ہے کہ اس فتنے کے دوران میں ہمارے ملک کے ذمہ دار پریس نے جو ملک کی رائے عامہ کی جان ہوتا ہے بڑی دلیری سے اپنے فرض کو ادا کیا ہے۔سب سے پہلے "ڈان" نے بڑی جرات سے اس فتنہ کے خلاف آواز بلند کی۔پھر بنگال کے پریس نے اس کی تائید کی۔پنجاب میں سول اور بعض دیگر اخبارات نے بھی اپنا فرض ادا کیا۔اُردو کے پریس کے ایک حصہ کا رویہ شروع میں ڈانواں ڈول تھا مگر بعد میں اس نے بھی دیانتداری کا ثبوت دیا۔گو افسوس ہے کہ مسلم لیگی پریس کے ایک حصہ نے اس موقع پر بہت بُرانمونہ دکھایا۔بہر حال جس قوم کے متعلق یہ مشہور ہو کہ وہ بہت جلد پروپیگینڈا سے متاثر ہو جاتی ہے اس قوم کے پر یس کا پروپیگنڈا کے مواد کو چھوڑ دینا ایک بہت امید افزا بات ہے۔