انوارالعلوم (جلد 23) — Page 107
انوار العلوم جلد 23 107 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت ، تعمیر ربوہ اور۔اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک اسلامی حکومت کا تو یہ فرض کے ہر فرد کی عزت کی حفاظت کرے ہے کہ وہ اپنے ملک کے ایک ادنیٰ سے ادنی انسان کی عزت کی بھی حفاظت کرے اور اس پر کوئی جھوٹا الزام نہ آنے دے۔کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے عرصہ میں ظفر اللہ خاں کے دفتر میں کسی چوہڑے نے بھی بیعت کی ہے اور احمدیت قبول کی ہے اگر یہ نہیں ثابت کیا جاسکتا تو یقیناً ایسا الزام لگانا ظفر اللہ خاں پر ظلم نہیں ہے بلکہ اس قوم پر ظلم ہے جس کے وہ ایک فرد ہیں۔اس کے بالمقابل مودودی جماعت کے کئی آدمی اس جرم میں پکڑے بھی گئے مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔پھر الزام لگانے سے پہلے یہ بھی تو دیکھ لیا جاتا کہ کون کون سے احمدی افسر ایسے ہیں جو بھرتی کرنے کے قابل ہیں۔کوئی فائنشل کمشنر احمدی نہیں ہے، کوئی ڈپٹی کمشنر احمدی نہیں ہے۔مہاجرین کو زمین تقسیم کرنے والا کوئی اعلیٰ افسر احمدی نہیں ہے۔پھر یہ ناجائز الا ٹمنٹ کرنے والا اور احمدیوں کو بھرتی کرنے والا ایسا احمدی افسر کون ہے ؟ پھر یہ بھی تو سوچنے والی بات ہے کہ اگر احمدی افسر ناجائز الاٹمنٹیں کرتے تو سب سے پہلے وہ مجھے فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے لیکن مجھے تو انہوں نے کچھ نہ لے کر دیا بلکہ میری جو زمین قادیان میں تھی اس کے کاغذات ابھی ادھر اُدھر ہی پھر رہے ہیں گواحراری تو کہہ رہے ہیں کہ مجھے دس ہزار مربعے ملے ہیں مگر مجھے دس ہزار مربعے چھوڑ دس مرتبان بھی نہیں ملے۔انصاف کا طریق یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ حکومت نے بغیر تحقیقات کے الزام ہماری جماعت پر لگا دیا ہے اور انصاف کا طریق یہی ہے کہ حکومت اس کی پوری پوری تحقیقات کرے۔اگر کسی احمدی افسر کے متعلق یہ الزام درست ثابت ہو تو بے شک اسے سخت سے سخت سزا دے لیکن اگر یہ غلط ثابت ہو تو پھر اس کی تردید کرے اور اعلان کرے کہ یہ الزام غلط ہے۔