انوارالعلوم (جلد 23) — Page 94
انوار العلوم جلد 23 94 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔۔عمرو بن معدی کربے ایک مشہور سپاہی تھے۔حضرت عمر ان کی بہادری اور شمشیر زنی کے واقعات سنتے رہتے تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت عمررؓ بھی بہت بہادر تھے اور دلیر تھے لیکن عمرو بن معدی کرب کی طرح شمشیر زن نہیں تھے۔ایک دفعہ عمرو بن معدی کر بے حضرت عمرؓ کے پاس آئے تو آپ نے ان کی تلوار لے لی۔آپ نے کو یہ شوق تھا کہ عمرو بن معدی کرب کی تلوار دیکھیں۔آپ نے وہ تلوار ایک درخت پر ماری تو اس سے اس درخت کا بہت تھوڑا حصّہ کٹا۔آپؐ نے فرمایا عمرو! میں تو سنا کرتا تھا کہ تو ایک تلوار مارتا ہے تو اونٹ کی چاروں ٹانگیں کاٹ دیتا ہے، تو تلوار مارتا ہے تو ایک ہی ضرب میں درخت کاٹ دیتا ہے مگر میں نے تلوار ماری ہے تو یہ درخت نہیں کٹا۔یو نہی معمولی نشان پڑا ہے۔کیا یہی تلوار ہے جس کی سارے عرب میں دھوم مچی ہوئی ہے۔عمرو بن معدی کربے نے کہا یا امیر المؤمنین! تلوار کا کام اونٹ کی چاروں ٹانگیں نہیں کاٹنا بلکہ وہ ہاتھ کاٹنا ہے جس میں یہ تلوار ہوتی ہے۔پس زمین اب بھی گورنمنٹ کے پاس ہے۔یہاں سے سر گو دھا تک ربوہ کی زمین سے دس گنا زمین خالی پڑی ہے۔اس زمین میں چار پانچ بڑے بڑے شہر بن سکتے ہیں۔ایک جگہ تو قریباً سات ہزار ایکڑ زمین خالی پڑی ہے۔جہاں سر گودھا کے لوگ اب چاند ماری کرتے ہیں۔جب ہم اس زمین کو دیکھنے گئے تو میرے ساتھیوں نے کہا یہ زمین پسند کر لیں یہ کھلی ہے۔میں نے کہا ہمیں کھلی زمین کون دیتا ہے۔تنگ زمین ہی لے لو۔اب ان کو یہ تنگ زمین بھی نہیں پہچتی۔تو بہر حال گورنمنٹ کے پاس ابھی ایسی زمینیں موجود ہیں جس کو اس زمین پر اعتراض ہے وہ اب لے کر دیکھ لے۔وہ ٹکڑا پسند کرے اور قیمت دے جائے اور شہر بنا لے مگر شرطیں وہی ہوں جو ہمارے ساتھ کی گئی ہیں کہ زمین صدر انجمن احمد یہ لے اور وہ آگے افراد کو دے پھر وہ وعدے کرے کہ اس میں سکول، کالج، ہسپتال اور دوسرے ضروری ادارے بنائے گی۔پس جس طرح ہم نے گور نمنٹ کو لکھ کر دیا ہے وہ بھی لکھ کر دے دیں اور وہ سب کچھ بنائیں جو ہم بنا رہے ہیں پھر ہم دیکھیں گے کہ وہ شہر کتنی جلدی