انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 637 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 637

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۳۷ اتحاد المسلمین تجربہ سے فتح ہوئی ہیں لیکن بعض لوگوں کو اس کا کچھ پتہ بھی نہیں ہوتا کہ آنکھ کے ذریعہ کس طرح اندازہ لگایا جاتا ہے۔یونہی اوٹ پٹانگ بتا دیتے ہیں۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک راجہ سے کوئی گناہ ہو گیا۔پنڈتوں نے کہا کہ یہ گناہ مٹ نہیں سکتا۔ہاں فلاں قسم کے برہمن کو اتنا دان دیں تو اس کا اثر دور ہوسکتا ہے۔راجہ بڑا پریشان تھا لیکن جس قسم کے برہمن کی تلاش تھی اس قسم کا برہمن اس علاقہ میں نہیں تھا۔بادشاہ نے وزیروں کو حکم دیا کہ وہ اس قسم کے برہمن کو تلاش کریں چنانچہ ایک وزیر نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو میں اس قسم کے برہمن کی تلاش کروں۔بادشاہ نے اسے اجازت دے دی چنانچہ وہ سڑک پر کھڑا ہو گیا ، تا آنے جانے والوں کو جانچ کر پتہ لگا سکے کہ ان میں سے کون برہمن ہے۔جب رعایا کو پتہ لگا کہ راجہ کو ایک برہمن کی تلاش ہے لیکن وہ مل نہیں رہا تو انہوں نے جھوٹ بولنا شروع کر دیا اور اپنے آپ کو برہمن ظاہر کرنا شروع کر دیا۔کوئی شو در ہوتا لیکن وہ اپنے آپ کو برہمن ظاہر کرتا۔کوئی کھتری ہوتا ، ویش ہوتا یا کسی اور گوت کا ہوتا تو وہ بھی اپنے آپ کو برہمن ظاہر کرتا تا کہ کسی طرح اس کو دان مل سکے۔وہ وز یر سڑک پر کھڑے ہو کر آنے جانے والوں کی جانچ کر رہا تھا کہ دو آدمی گزرے۔اس نے خیال کیا کہ شاید ان میں سے ایک برہمن ہو۔چنانچہ اس نے انہیں بلا کر دریافت کیا کہ آیا ان میں سے کوئی برہمن ہے؟ ان میں سے ایک شخص جو بنیا تھا کہنے لگا کہ میں برہمن ہوں اور دوسرے شخص نے بھی جو در حقیقت برہمن تھا کہا میں برہمن ہوں۔وزیر نے حکم دیا کہ ان دونوں کو میرے پاس لایا جائے اور ان سے بیان لئے جائیں۔اس نے بنیئے سے دریافت کیا کہ درخت کتنا اونچا ہوتا ہے۔اس نے کہا درخت ۴۴ ، ۴۵ فٹ اونچا ہوتا ہے۔پھر اس نے برہمن سے مخاطب ہو کر کہا تم بتاؤ درخت کتنا اونچا ہوتا ہے۔اس نے کہا درخت چار پانچ فٹ اونچا ہوتا ہے۔اس پر وزیر نے کہا یہی برہمن ہے۔چونکہ یہ لوگ مفت خور ہوتے ہیں اور بے کا ر رہتے ہیں اس لئے یہ لوگ خود غور کرتے نہیں محض سنی سنائی بات پر یقین کر لیتے ہیں۔بہر حال وزیر نے اس شخص کی بیوقوفی سے اسے پہچان لیا اور کہا یہی شخص برہمن ہے اسے دان دے دو۔