انوارالعلوم (جلد 22) — Page 577
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۷۷ سیر روحانی (۶) ماتحت ہو کر کام کرنا پڑتا تھا۔آپ نے فرمایا یہ تحریک مجھے ایسی پیاری تھی کہ اگر آج بھی مجھے کوئی اس کی طرف بلائے تو میں اس میں شامل ہونے کے لئے تیار ہوں کے گویا غرباء کی امداد کے لئے آپکو دوسروں کی ماتحتی میں بھی کوئی عار نہیں تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مظلوم پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک ثبوت بھی انہی دنوں بہم پہنچا شخص کے متعلق ابو جہل سے مطالبہ دیا۔مکہ کے قریب کا ایک شخص تھا جس کا ابو جہل کے ذمہ کچھ قرض تھا اُس نے ابو جہل سے اپنے روپے کا مطالبہ شروع کر دیا مگر ابو جہل اس کی ادائیگی میں لیت و لعل کرتا رہا۔آخر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ابو جہل نے میرا اتنا روپیہ مارا ہوا ہے آپ مجھے میرا حق دلا دیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب ابو جہل آپ کے قتل کا فتوی دے چکا تھا اور ملکہ کا ہر شخص آپ کا جانی دشمن تھا۔جب آپ باہر نکلتے تو لوگ آپ پر پتھر اور مٹی پھینکتے ، بیہودہ آوازے کستے اور ہنسی اور تمسخر کرتے مگر آپ نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور فوراً اُس آدمی کو ساتھ لے کر ابو جہل کے مکان پر پہنچے اور دروازہ پر دستک دی۔ابوجہل نے دروازہ کھولا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ شخص جس کا میں اس قدر دشمن ہوں آج میرے مکان پر چل کر آ گیا ہے۔اُس نے پوچھا آپ کس طرح آئے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس شخص کا کوئی روپیہ دینا ہے؟ اس نے کہا ہاں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر دے دو۔ابو جہل خاموشی سے اندر گیا اور روپیہ لا کر اس کے حوالے کر دیا۔۴ کے قدرت کا ایک عجیب نشان جب یہ خبر مکہ میں مشہور ہوئی تو لوگوں نے ابوجہل کا مذاق اُڑانا شروع کر دیا کہ تم تو کہتے تھے کہ محمد ( صلے اللہ علیہ وسلم ) کو جتنا دُ کھ دیا جائے اتنا ہی اچھا ہے اور خود اُن سے اتنا ڈر گئے کہ اُن کے کہتے ہی چُپ کر کے روپیہ لا کر دیدیا۔ابو جہل کہنے لگا تم نہیں جانتے جب میں نے دروازہ کھولا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دائیں اور بائیں دو