انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 31

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۱ سچا ایمان، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو بغیر پیدا نہیں ہوتا۔عمل گواہی دیتا ہے ایمان پر اور ایمان پیدا کرتا ہے عمل کو۔تیسری چیز جو احمدیت میں داخل ہونے والے کے لئے اپنے اندر پیدا کرنا ضروری ہے وہ راست بازی ہے۔یہ خلق بھی کام کے لئے ایک اصولی خُلق ہے۔راست بازی اپنی ذات میں ایک طبعی چیز ہے مثلاً کوئی شخص آپ کے سامنے بُوٹ رکھے اور کہے یہ کیا ہے؟ تو آپ کہیں گے یہ بُوٹ ہے۔اور اگر وہ شخص یہ کہے کہ تم اسے بُوٹ نہ کہو تو تم کہو گے اور کیا کہوں یہ ہے ہی بُوٹ۔غرض راست بازی ایک طبعی چیز ہے اور انسان مجبور ہوتا ہے کہ وہ سچ کہے۔لیکن جب مصلحتاً وہ اُسے بدلنا چاہتا ہے تو وہ ایک غیر طبعی چیز بن جاتی ہے۔راست بازی مذہبی چیز نہیں، راست بازی انسان کا طبعی حصہ ہے۔جب تم سچ بولنے سے انکار کرتے ہو تو گویا فطرت کا انکار کرتے ہو۔راست بازی کس چیز کا نام ہے؟ فرض کرو تمہارے سامنے پہاڑ کا ایک ٹیلہ ہے تو تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ ایک گدھا ہے، تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ ریل ہے تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ لنڈن ہے، تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ نیو یارک ہے ، تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ دہلی ہے، تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ دریا ہے ، تم یہ بھی ہ سکتے ہو کہ یہ ایک خیمہ ہے ، تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ ایک خادم ہے جو پہرہ دے رہا ہے تم یہ سب کچھ کہہ سکتے ہو لیکن جو شخص تمہارے ساتھ سازش میں شریک نہیں ہو گا اُسے جب تم کہو گے کہ یہ پہاڑی ہے تو وہ کہے گا ٹھیک ہے۔لیکن جب تم کہو گے کہ یہ خیمہ ہے تو وہ کہے گا یہ جھوٹ ہے تم پاگل ہو گئے ہو۔جب تم کہو گے یہ لنڈن ہے تو وہ کہے گا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، اگر تم کہو گے کہ یہ نیو یارک ہے تو وہ کہے گا پاگل خانہ میں جا کر علاج کرواؤ۔غرض جھوٹ یا سازش میں جو شریک نہ ہو اس کے سامنے جب کسی چیز کا وہ نام لو جو اُس کا اصلی نام نہیں تو تین کنڈیشنز ہوں گی۔یا تو وہ کہے گا یہ تمسخر کر رہا ہے۔یا کہے گا کہنے والا احمق ہے۔یا کہے گا یہ جھوٹ ہے۔ان تین حالتوں کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہوسکتی۔غرض راست بازی ایک طبعی خُلق ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ جب کسی کے سامنے تم ایک چیز کا وہی نام لو گے جو اُس کا اصلی نام ہے تو وہ اُس کی تصدیق کرے گا