انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 479

انوار العلوم جلد ۲۲ چشمہ ہدایت دبانے دیں۔یہ غلامی ہے جو محبت کی غلامی ہے اور جس میں انسان اپنی عزت محسوس کرتا ہے۔لیکن اس کی بجائے اگر کسی بڑھے کو مار مار کر ہم کہیں کہ آؤ اور ہمارے پیر دباؤ تو سب لوگ کہنے لگ جائیں گے کہ دیکھو! یہ مذہبی لیڈر بنے پھرتے ہیں اور حالت یہ ہے کہ ایک بڑھے کو مار رہے ہیں لیکن اب سوار ہم ہوتے ہیں اور پیدل وہ چلا آتا ہے لیکن گھوڑے سے اُترتے ہی وہ ہمارے پیر دبانے لگ جاتا ہے دیکھنے والا دیکھتا ہے اور حیران ہوتا ہے بلکہ اسے منع بھی کرو تو وہ کہتا ہے تم مجھے منع کرنے والے کون ہو میں تو ثواب حاصل کر رہا ہوں۔چوتھا اصول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ پیش فرمایا کہ الہام الہی دروازه قیامت تک کھلا ہے اس کے مقابلہ میں غیر احمدیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ الہام الہی کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔اب دیکھ لو حضرت مرزا صاحب نے جو کچھ کہا نقل اس کے مطابق ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ المَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَ لا تَحْزَنُوا و آبشرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ٣٥ یعنی وہ لوگ جو سچے دل سے اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور پھر مخالفتوں کے باوجود اپنے اس ایمان پر قائم رہتے ہیں اور صبر اور استقامت سے کام لیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان پر اُترتے ہیں اور وہ انہیں خوشخبری دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم اپنے گزشتہ مصائب پر کسی قسم کا خوف مت کھاؤ اور نہ آئندہ کے لئے کوئی غم کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تمہاری مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔پھر اسی دنیا کا سوال نہیں بلکہ ہم تم کو یہ بھی خبر دیتے ہیں کہ اگر ان کشمکش اور تکلیف کے دنوں میں تمہیں موت آگئی تو تمہاری موت بھی بڑی خوشی کا موجب ہو گی اور تم جنت میں داخل کئے جاؤ گے۔اب دیکھو قرآن مجید نے صاف طور پر یہ بیان فرمایا ہے کہ مومنوں پر فرشتے نازل ہوتے ہیں جو مصائب میں اُنہیں تسلی دیتے ہیں اور مشکلات میں اُن کی ڈھارس بندھاتے ہیں اور آئندہ کے لئے انہیں بشارتیں دیتے ہیں اور اسی چیز کو وحی اور الہام کہا جاتا ہے۔۔