انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 24

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۴ سچا ایمان، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو اس کے بعد میں آپ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں، اخبارات پڑھنے والے جانتے ہیں اور جن جماعتوں میں میں گیا ہوں وہ بھی جانتی ہیں کہ میں اڑھائی ماہ سے شدید کھانسی میں مبتلا ہوں اور میرا گلا بیٹھا ہوا ہے یہاں آکر کچھ آرام آ گیا تھا لیکن خطبہ سے دوبارہ تکلیف شروع ہو گئی ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں گرد اڑتی ہے اور گر دکھانسی کے لئے مہلک ہوتی ہے اس لئے باوجود اس خواہش کے کہ میں اکثر وقت یہاں گزاروں میں ایسا نہیں کرسکوں گا۔نائب صدر میری جگہ پر کام کریں گے سوائے اُن وقتوں کے جن میں میں یہاں ٹھہر نے کا فیصلہ کروں یا میری صحت مجھے ٹھہرنے کی اجازت دے اس لئے میں خدام کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جب وہ کوئی کام کر رہے ہوں اور وہ مجھے یہاں آتا دیکھیں وہ اپنی آنکھیں اُسی طرح بند کر لیں گے کہ گویا اُنہوں نے مجھے دیکھا ہی نہیں۔اگر وہ مجھے دیکھ کر میری طرف بھاگیں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ گر داڑے گی اور میں بیمار ہو جاؤں گا اور آئندہ اجتماع میں شریک نہ ہوسکوں گا۔سوائے دو تین اشخاص کے جو میرے ساتھ آنے اور جانے کے لئے مقرر ہیں۔دوسرے خدام کو میرے ساتھ نہیں چلنا چاہئے۔بلکہ اگر مخصوص عملہ کے سوا کوئی اور شخص میرے ساتھ آ رہا ہو تو انہیں چاہئے کہ وہ اُسے الگ کر کے سمجھا دیں کہ اُس کا اِس طرح میرے ساتھ جانا منع ہے۔اور پرائیویٹ سیکر یٹری کو چاہئے کہ وہ میرے ساتھ آنے والے مخصوص عملہ پر مخصوص لیبل لگا دیں تا کہ ان کے علاوہ ان اگر کوئی اور شخص میرے ساتھ آرہا ہو تو کا رکن اُس کو ہٹا سکیں۔پر اس کے بعد میں خدام الاحمدیہ کو ان کے ان مستقل فرائض کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو اسلام کی ابتداء سے ان پر عائد ہوتے ہیں بلکہ دنیا کی پیدائش سے ان پر عائد ہوتے ہیں لیکن مختلف وقتوں میں لوگ اُنہیں بھول جاتے رہے ہیں اور انہیں یاد کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے انبیاء دنیا میں مبعوث ہوتے رہے ہیں۔نمازوں کے طریق کی بدلتے رہے ہیں، اعمال کی تفصیلات بدلتی رہی ہیں۔روزوں کے طریق بدلتے رہے ہیں، حج کی جگہیں بھی بدلتی رہی ہیں، حج کی کیفیتیں بھی بدلتی رہی ہیں، زکوۃ کے طریق بھی بدلتے رہے ہیں اور زکوۃ کے نصاب بھی بدلتے رہے ہیں لیکن بعض ایمانی، اعتقادی