انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 471

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۷۱ چشمہ ہدایت جاتے ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں اور دشمنوں کی سازشیں اور ریشہ دوانیاں جاتی رہیں تب بھی تم غور کر کے دیکھ لو کہ اِس موجودہ دنیا کے نقشہ پر روس اور امریکہ اور انگلینڈ اور فرانس کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ان ممالک کی آزادی اور ان کی طاقت ہمارے لئے کوئی بھی فخر کی چیز ہوگی؟ یہ ساری حکومتیں آزاد بھی ہو جائیں تو دنیا کی پالیٹکس میں ان کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے۔روس اور امریکہ اور انگلینڈ اور فرانس کے مقابلہ میں ان کا کیا درجہ تسلیم کیا جا سکتا ہے۔اگر ایک بادشاہ کے گھر کے پاس کسی غریب آدمی کا مکان ہوا اور فرض کر لو کہ اس کے پاس کسی وقت لاکھ دو لاکھ روپیہ بھی آ جائے تب بھی بادشاہ کے مقابلہ میں اس کی کیا حیثیت تسلیم کی جاسکتی ہے۔جس دن اُس کا روپیہ ختم ہو جائے گا اُسی دن اس کی ساری حیثیت جاتی رہے گی اور وہ پھر دنیا میں ایک بے حقیقت چیز بن کر رہ جائیگا۔پس سوال یہ ہے کہ اگر وہ سب کچھ ہو جائے جو مسلمان چاہتے ہیں تب بھی دنیا میں مسلمان کی کیا حیثیت ہوگی؟ کیا اس کا پھیلاؤ، کیا اس کا روپیہ، کیا اس کی فوج ، کیا اس کی تعداد اور کیا اس کی طاقت اس قابل سمجھی جا سکتی ہے کہ دنیا کی پالیٹکس پر کوئی غیر معمولی اثر پیدا کر سکے؟ اگر نہیں تو بتاؤ اس صح نظر سے اسلام کو کیا فائدہ؟ اور مسلمان نوجوانوں کے اندر اس صحیح نہ سے وہ کونسا انقلاب پیدا ہو سکتا ہے کہ ہر مسلمان کا دل اُچھلنے لگے کہ میں بھی اس صح نظر کے حصول کے لئے کچھ کوشش کروں شاید کہ میرا نام بھی تاریخ میں محفوظ ہو جائے۔زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو پولیٹیکل دنیا میں ایک تیسرے درجہ کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اور تیسرے درجہ کی حیثیت کوئی ایسی چیز نہیں جو انتہائی مقصود قرار دیا جا سکے۔اس میں کوئی محبہ نہیں کہ مسلمان ممالک کی آزادی ضروری چیز ہے۔کون چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ غلام بنار ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ طمح نظر ایسا ہو سکتا ہے جس سے مسلمان نوجوانوں کی رگوں میں نیا خون دوڑ نے لگے اور کیا اس کے ذریعہ سے اسلام کو کوئی اہم پوزیشن دنیا میں حاصل ہو جاتی ہے؟ پس سوال یہ نہیں کہ اسلامی ممالک کی آزادی اچھی چیز ہے یا نہیں ؟ سوال یہ ہے کہ اگر وہ آزادی ان کو حاصل ہو جائے تو پھر ہم کیا بن جاتے ہیں؟ ایک غریب آدمی جس