انوارالعلوم (جلد 22) — Page 393
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۹۳ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔اگر جماعت کو انہی حالات میں سے گزرنے دیا گیا تو دس پندرہ سال کے بعد یہ حالت ہو جائے گی کہ دس بارہ سیکرٹری جمع ہو جایا کریں گے اور شاید اخبار میں یہ شائع کر دیا جایا کرے گا کہ نہایت شاندار جلسہ ہوا، دھواں دھار تقریریں ہوئیں، زور دار لیکچر دیئے گئے۔اس طرح یہ چیز الفضل کا ریزولیوشن بن کر رہ جائے گی ، اس میں حقیقت نہیں ہو گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا نظارہ نہیں ہوگا بلکہ تمسخر ہو گا۔اب میں ہدایت دیتا ہوں کہ جلسہ میں آنے والوں کی لسٹیں تیار کرو تا کہ نہ آنے والوں کی نگرانی کی جاسکے۔پھر ان سے پوچھو کہ وہ جلسہ میں کیوں نہیں آئے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان جلسوں کو چھٹی لینے کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔یوم التبلیغ کو لے لو۔اُس دن سب اداروں میں چھٹی ہوتی ہے لیکن کا رکن تبلیغ کے لئے باہر نہیں جاتے اور جب کارکن تبلیغ کے لئے باہر نہیں جاتے تو انہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی سستی کرتے ہیں لیکن مجھے نظارت کی طرف سے چٹھی آ جاتی ہے کہ ایک دن کی چھٹی منظور کی جائے ، ہم نے تبلیغ کے لئے جانا ہے لیکن چھٹی ہو جانے کے باوجود نہ ناظر باہر جاتے ہیں نہ وکلاء باہر جاتے ہیں اور نہ دوسرے کا رکن باہر جاتے ہیں۔میں اس چیز کو دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ آخر یہ غفلت کب دُور ہو گی؟ لیکن رپورٹیں آ جاتی ہیں کہ سب لوگ تبلیغ کے لئے باہر گئے ہوئے تھے حالانکہ باہر جانیوالے صرف اُستاد، طالب علم اور کچھ مخلصین ہوتے ہیں۔کارکنوں میں سے ایک چوتھائی حصہ بھی باہر نہیں جاتا۔تمام ناظر اور وکلاء گھروں میں جا بیٹھتے ہیں اور اُس دن چھٹی مناتے ہیں حالانکہ چھٹی دی ہی اس لئے جاتی ہے کہ لوگ باہر جائیں اور تبلیغ کریں۔اس نقص کو دیکھ کر میں نے قادیان میں یہ حکم دیا تھا کہ جو تبلیغ کے لئے باہر جائیں صرف انہیں چھٹی دی جائے ، باقی کارکن دفاتر میں کام کریں لیکن اس حکم کے با وجود اس دن کو چھٹی کا دن بنا لیا جاتا ہے۔گویا یوم التبلیغ کیا ہے قادیان کا قدموں کا میلہ ہے یا لا ہور کا چراغاں کا میلہ ہے اور یا لائکپور کی طرح کی جانوروں کی منڈیاں ہیں۔صحیح روح پیدا نہیں کی گئی۔پس میں سمجھتا ہوں کہ میرے یہاں آنے کے نتیجہ میں ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ