انوارالعلوم (جلد 22) — Page 374
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۷۴ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ہیں۔اب تمہیں پہلوں سے بہت بڑھ کر قربانی کرنا پڑے گی لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہم پہلوں والی قربانی بھی نہیں کرتے۔جب تک تم اپنی روح کو بدلو گے نہیں ، جب تک تم اس طرح غسل نہیں لے لیتے جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے جاری کیا تھا۔آپ نے بپتسمہ جاری کیا۔آپ جسم پر پانی کا چھینٹا دیتے اور کہتے ”لو اب تو پاک ہو گیا ہے، بپتسمہ کا مطلب یہی تھا کہ جس طرح تمہیں ظاہری غسل دیا گیا ہے اور اس سے تم پاک ہو گئے ہو اسی طرح تم اپنی روح کو بھی غسل دو اور اُسے صاف کرو۔، پس جب تک تم اپنی روح میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے تم اس بوجھ کو اُٹھا نہیں سکتے۔اگر تم نے وعدہ کر کے اُسے ادا نہیں کرنا تو تم پہلے سے ہی کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے۔تم اس کام میں شامل ہو کر اور وعدوں کی عدم ادائیگی سے جماعت کو نقصان پہنچا رہے ہو۔آج سے سترہ سال قبل بھی تو کام ہو رہا تھا۔اگر چہ وہ محدود تھا لیکن اُس وقت جماعت کا چندہ کہاں تھا۔ہر زمانے کے مطابق انسان اپنی سکیم بناتا اور اس کے مطابق کام کرتا ہے لیکن اب سکیم بعض وعدہ کرنے والوں کے جھوٹے وعدوں کے مطابق بنائی جاتی ہے اس لئے درمیان میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔کل ہی ایک مبلغ کی شکایت آئی ہے کہ مجھے چھ ماہ تک کوئی خرچ نہیں ملا۔وہ مبلغ جھوٹ نہیں بولتا۔محکمہ بہانے بنائے گا گو واقعہ کا انکار نہیں کرے گا لیکن حقیقت یہی نکلے گی کہ روپیہ نہیں تھا۔ویسے وہ بہانے بنائے گا اور دوسرے محکمہ کو لکھے گا کہ رپورٹ کرو۔اِس پر دس پندرہ دن لگ جائیں گے۔پھر تیسرے محکمہ کو لکھا جائے گا کہ ایسا کیوں ہوا؟ اور اس کی رپورٹ آنے تک دس بارہ دن اور گزر جائیں گے۔پھر اوپر کے محکمہ کو لکھا جائے گا کہ اب کیا کریں لیکن مبلغ وہاں اکیلا بیٹھا ذلیل اور رسوا ہو رہا ہے۔لوگ دیکھتے ہیں کہ اُس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں کپڑے دُھلانے کے لئے پیسے نہیں، سفر کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں اور اُس کا دل بیٹھا جاتا ہے۔پس تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور اگر تم نے اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرنی تو صاف کہہ دو کہ ہم کام نہیں کریں گے تا کہ ہم اس کے مطابق اپنی سکیم بدل دیں۔خدا تعالیٰ نے انسان پر اتنی ذمہ داریاں ہی ڈالی ہیں۔جتنے سامان اُسے مہیا کئے گئے