انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 361

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۶۱ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہی کہا تھا کہ جاؤ اور میری بندوں کو میری طرف لاؤ اور ان اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہی کہا ہے کہ جاؤ اور میرے بندوں کو میری طرف لاؤ۔در حقیقت بات ایک ہی تھی لیکن وہ نئی تھی اُن لوگوں کے لئے جو خدا تعالیٰ سے غافل ہو گئے تھے اور اُس کی تعلیم کو بھول گئے تھے۔جیسے کسی نے اگر کوئی شہر بچپن میں دیکھا ہو پھر وہ بڑھاپے کے وقت اُس میں دوبارہ جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر پہلے بھی دیکھا ہی نہیں تھا اور وہ اُسے بالکل نیا معلوم ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو ایک خاص غرض کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ غرض قیامت تک مقدم رہے گی اور باقی ہر چیز اس سے مؤخر ر ہے گی۔جولوگ اس غرض کو بھول جاتے ہیں وہ اِس دُنیا میں بھی ذلیل ہوتے ہیں اور اگلی زندگی میں بھی ذلیل ہوتے ہیں۔اس دُنیا میں انسانوں کے دو گروہ ہوتے ہیں۔ایک گروہ وہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ کو نہیں مانتا اور ایک وہ گروہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ کو مانتا ہے۔اب جو شخص اپنی غرض پیدائش کو بھول جاتا ہے وہ دُنیا میں اس طبقہ کے لوگوں میں ذلیل ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ کو مانتے ہیں اور جو نہیں مانتے ان میں ان کی ایک حد تک قدر ہوتی ہے لیکن اگلی زندگی میں وہ سب لوگوں کے سامنے ذلیل ہوتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے سامنے بھی وہ ذلیل ہوتا ہے۔بسا اوقات دُنیا میں خدا تعالیٰ کے برگزیدہ کو نہ ماننے والے زیادہ ہوتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کے برگزیدہ کا مخالف یہ سمجھتا ہے کہ اس کی عزت زیادہ ہو گئی ہے کیونکہ اسے اکثریت کی تائید حاصل ہوتی ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب ایک دفعہ قادیان آئے اور ایک بڑے جلسہ میں نعر ہائے تکبیر میں اُنہوں نے کہا میں ایک نکتہ بیان کرتا ہوں۔مرزا صاحب اور میرے درمیان آسان طریق فیصلہ یہ ہے کہ مرزا صاحب میرے ساتھ کلکتہ تک ٹرین میں چلیں۔کلکتہ تک سینکڑوں اسٹیشن ہیں ہم دیکھیں گے کہ راستہ میں انہیں پتھر پڑتے ہیں یا مجھے، اور پھول پر برسائے جاتے ہیں یا اُن پر۔کلکتہ تک جاتے ہوئے اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ