انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 359

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۵۹ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے یہودی بھی بیت المقدس جاتے تھے۔زرتشتی بھی ایسے مقدس مقامات پر جمع ہوتے تھے۔ہندو بھی گنگا جمنا اور ہر دوار جاتے تھے۔گویا حج ہر مذہب میں تھا لیکن اس کی شکل مختلف فرض تو حید ہر زمانہ میں ایک تھی۔عبادت بھی وہی تھی صرف تفصیل میں کچھ فرق نظر آتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی نہ کسی رنگ میں اس کا وجود پایا جاتا تھا۔حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں یہ موٹے رنگ میں تھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بار یکی اور فلسفہ پیدا کر دیا۔پھر چوری ہے۔یہ بھی ہر مذہب میں بُری سمجھی جاتی ہے۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سب نبیوں نے اس سے روکا ہے۔پھر ہر نبی نے جھوٹ سے منع کیا ہے ہر نبی نے یہ کہا ہے کہ قتل مت کرو۔قرآن کریم میں ہابیل اور قابیل کا قصہ موجود ہے۔ان میں سے ایک نے دوسرے کو کہا کہ تم مجھے قتل نہ کرو کہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی تعلیم پیش کی ہے۔گویا اخلاقی تعلیم بھی اصولی لحاظ سے ہر زمانہ میں ایک سی تھی۔پھر لین دین میں انصاف کے متعلق ہر نبی نے تعلیم دی ہے۔پھر اسلام میں یا اسلام کے بعد جدید کیا چیز ہے کہ اس کا نام جدید رکھا جائے۔جہاں تک اصول کا تعلق ہے وہ ایک ہی ہیں۔اسلام نے کوئی نیا اصل پیش نہیں کیا بلکہ بعض لوگوں نے یہاں تک دھوکا کھایا ہے کہ اسلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی موجود تھا۔حالانکہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ پہلے زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کا حکم تھا۔اس لئے وہ مذہب اسلام کہلانے کے مستحق تھے لیکن اسلام کے عقائد اور مسائل کی تفصیل پہلے نہیں پائی جاتی تھی۔یوں اصولی لحاظ سے اسلام نے بھی کوئی نئی چیز پیش نہیں کی۔جدید چیز جو ہے وہ در حقیقت کام کی روح ہوتی ہے۔اس کی شکل ہوتی ہے۔کچھ عرصہ کے بعد لوگ تعلیم کو بھول جاتے ہیں اور اُن ذمہ داریوں سے جو اُن پر عائد ہوتی ہیں فاضل ہو جاتے ہیں۔ان ذمہ داریوں کی طرف لوگوں کو توجہ پھرانے