انوارالعلوم (جلد 22) — Page 318
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۱۸ اصلاح اور تربیت کے لئے اپنا نیک نمونہ پیش لئے کونسا گر تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔بعض نوجوانوں کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ ہاتھوں میں کا پیاں لئے پھرتے ہیں اور جب مجھ سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس کاپی میں کوئی نصیحت لکھ دیں۔بسا اوقات میں لکھ بھی دیتا ہوں لیکن میں سوچتا ہوں جب انہوں نے قرآن کریم سے فائدہ نہیں اُٹھایا، اُمت محمدیہ کے اولیاء اور صوفیاء سے فائدہ نہیں اُٹھایا ، میری کتابوں سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔اسی طرح سلسلہ کے علماء کی کتابوں سے فائدہ نہیں اُٹھایا تو میری کوئی نصیحت اُنہیں کو کیا فائدہ دے گی ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے پاس بعض لوگ آتے اور کہتے کہ آپ ہمیں کوئی معجزہ دکھا ئیں۔آپ فرمایا کرتے کہ تم نے پہلے معجزوں سے کیا فائدہ اُٹھایا کہ ایک اور معجزہ کے طالب ہو۔بے شک کسی چیز کی وقتی طور ضرورت پیش آجاتی ہے لیکن وہ حقائق میں سے کوئی نئی چیز نہیں۔کیا کوئی ایسا وقت آیا ہے کہ جب ظلم کو بُرا نہ سمجھا جاتا ہو؟ یا کوئی ایسا وقت آیا ہے کہ جب جھوٹ کو بڑا نہ سمجھا جاتا ہو؟ ہر وقت اور ہر زمانہ میں یہ حقائق موجود ہوتے ہیں لیکن جب لوگوں کی توجہ ان سے کلیتہ پھر جاتی ہے تو کسی نئے مصلح اور ریفارمر کی ضرورت ہوتی ہے۔غرض جن صداقتوں اور حقائق کی انسان کو ضرورت ہوتی ہے وہ دُنیا میں پہلے سے موجود ہیں۔ہاں اُلجھنیں نئی ہو سکتی ہیں۔مثلاً انسان شروع سے پیروں سے چلتا چلا آیا ہے یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ہاں اس میں یہ الجھن پیدا ہوسکتی ہے کہ انسان رستہ بھول جائے اور پوچھے کہ صحیح راستہ کون سا ہے۔اب جہاں تک چلنے کا سوال ہے وہی پاؤں ہیں جن سے حضرت آدم کے وقت سے لوگ چلتے آئے ہیں۔جہاں تک دیکھنے کا سوال ہے وہی آنکھیں موجود ہیں جن سے لوگ حضرت آدم کے وقت سے دیکھتے آئے ہیں۔جہاں تک سوچنے کا سوال ہے وہی دماغ موجود ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے چلا آیا ہے۔غرض جہاں تک حقائق کا سوال ہے یہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے ایک ہی صورت میں چلے آتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ انسان ارادہ کرے کہ اس نے ان پر عمل کرنا ہے۔مثلاً سچ بولنا ہے اس کے متعلق یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کیوں بیچ بولنا چاہئے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان یہ فیصلہ کر لے اس نے