انوارالعلوم (جلد 22) — Page 305
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۰۵ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو ایک انٹرنس پاس لڑکا یا مولوی فاضل تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ انگریزی یا عربی بول سکے حالانکہ اُسے بہت سے ایسے مواقع میسر آتے ہیں جن سے اگر وہ چاہے تو فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔کسی زمانہ میں عربی کے بڑے سے بڑے عالم بھی عربی نہیں بول سکتے تھے کیونکہ انہیں عربی بولنے کے مواقع میسر نہیں آتے تھے۔لیکن اب تو ہمارے پانچ سات آدمی ایسے ہوں گے جو عرب ممالک سے ہو آئے ہیں اور پھر عربی بولنے والے طالب علم بھی آتے رہتے ہیں انہیں ان سے گفتگو کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔انگریزی دانوں کو تو انگریزی بولنے کے مواقع کثرت سے ملتے ہیں لیکن عربی دانوں کو اگر عربی زبان میں کچھ بولنے کا موقع ملے تو ان کی حالت اُس شخص کی سی ہو گی جو ایک وزنی ٹرنک سر پر اُٹھائے جارہا ہو۔وہ اُس وقت پسینہ پسینہ ہور ہے ہوتے ہیں کیونکہ انہیں عربی بولنے کی عادت نہیں ہوتی۔پس تمہیں علم سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔مثلاً عربی دانوں کو لے لو۔جتنے طلباء ہمارے جامعتہ المبشرین میں پڑھتے ہیں۔جہاں تک کورس کی تعلیم کا سوال ہے ان میں سے ایک بھی نہیں جس کی تعلیم مجھ سے دس گنا زیادہ نہ ہو لیکن جتنا قرآن کریم کو میں سمجھتا ہوں اور اس کے معانی اور معارف بیان کرسکتا ہوں اس کا فیصدی بھی بیان نہیں کر سکتے۔گویا ان کی تعلیم مجھ سے دس گنا زیادہ ہے لیکن علم سے بھی کم ہے کیونکہ وہ پڑھنے کے لئے علم سکھتے ہیں استعمال کے لئے نہیں کتاب کا علم علم نہیں علم کتابیں پڑھنے کے بعد آتا ہے۔ہم کتابیں پڑھتے ہیں اور بعد میں ان پر غور کرتے ہیں اور نتائج نکالتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ کتاب کے باغیچہ یا وادی میں گھاس یا کی ل نکلا ہے وہ گھاس یا پھول اپنی جگہ پر قیمتی نہیں بلکہ ان کی قیمت اُس وقت بڑھتی ہے جب مالی ان سے ہار تیار کرتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم مالی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم وادی کے کنارے بیٹھے رہتے ہیں۔ہم پڑھتے رہتے ہیں لیکن علم کا انیلسز“ اور استعمال نہیں سیکھتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری معلومات خراب ہوتی ہیں، ہماری دلیل ناقص ہوتی ہے۔جو بات ہم دس بار بھی پڑھ چکے ہوں اُسے موقع پر چسپاں کرنا نہیں آتا اور وقت پر پتہ نہیں لگتا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔