انوارالعلوم (جلد 22) — Page 298
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۹۸۔اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو بولتے ہو تو ایک بات کو دُہرا دیتے ہو۔ہاتھ سے ایک کام کرتے ہو تو تم کہتے ہو ہاتھ فلاں کام کرتے ہیں۔آنکھیں دیکھتی ہیں تو تم کہتے ہو آنکھیں دیکھتی ہیں۔کان سنتے ہیں تو تم کہتے ہو کان سنتے ہیں۔زبان چکھتی ہے تو تم کہتے ہو زبان چکھتی ہے اور اسی کو سچ کہتے ہیں لیکن یا درکھو سچ کے یہ معنے نہیں کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہے وہ تم ضرور کہہ دو۔قرآن کریم بعض باتوں کے بیان کرنے سے منع کرتا ہے۔پس اگر کوئی شخص ان کو بیان کرتا ہے تو وہ سچ نہیں بولتا بلکہ فتنہ و فساد پھیلاتا ہے۔سچ کے معنی صرف یہ ہیں کہ اگر تم کوئی بات کہو تو ضرور سچ کہو یہ نہیں کہ تم وہ بات ضرور کہو۔فرض کرو تم نے ایک لڑکے کو کسی دوسرے لڑکے کو مارتے دیکھا۔اب اگر ہیڈ ماسٹر تمہیں بلا کر پوچھتا ہے کہ کیا اس لڑکے نے فلاں لڑکے کو مارا تھا ؟ تو تم سچی بات بتا دو خواہ مارنے والا تمہارا گہرا دوست ہی ہو۔لیکن اگر تم خود یڈ ماسٹر کے پاس چلے جاتے ہو اور اُسے کہتے ہو کہ میں نے فلاں لڑکے کو مارتے ہوئے دیکھا ہے تو یہ سچ نہیں بلکہ فتنہ اور شرارت ہے۔جب ہیڈ ماسٹر خود بلا کر پوچھے اور تم کہو میں نے فلاں لڑکے کو مارتے ہوئے دیکھا ہے تو یہ سچ ہو گا لیکن اگر تم خود ہیڈ ماسٹر کے پاس چلے جاتے ہو اور کہتے ہو میں نے فلاں لڑکے کو مارتے ہوئے دیکھا ہے تو یہ فتنہ ہوگا اور اسلام اس سے منع کرتا ہے۔ہر نیکی کسی عمل پر گناہ بن جاتی ہے اور ہر بدی کسی عمل پر نیکی بن جاتی ہے۔مثلاً عفو کرنا بھی اسلام نے جائز رکھا ہے۔فرض کرو اس لڑکے نے واقعی طور پر کسی لڑکے کو مارا تھا لیکن بعد میں مار کھانے والا مارنے والے کو معاف کر دیتا ہے اور اپنے والدین یا بہن بھائیوں کو نہیں بتا تا تو یہ بہت بڑی نیکی ہے۔اب اگر تم اس کے والدین کے پاس چلے جاتے ہو اور کہتے ہو فلاں لڑکے نے تمہارے لڑکے کو مارا ہے تو گو اس طرح تم ایک حقیقت بیان کرتے ہو لیکن تمہارا یہ حقیقت بیان کرنا فتنہ کا موجب بن جائے گا۔وہ لڑکا مارنے والے کو معاف کر آیا تھا لیکن اس کے والدین یا اُستادا گر تم ان کے پاس رپورٹ کرتے ہو تو اُسے سزا دیں گے۔پس سچ اس چیز کا نام نہیں کہ تم جو کچھ دیکھو وہ بیان کر دو۔سچ اس چیز کا نام ہے کہ جب تم سے گواہی لی جائے تو تم وہی بیان کرو جو واقع ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت نے