انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 297

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۹۷ اپنے اندر سچائی ،محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو تمہارے ساتھ کلام نہیں کروں گا۔نتیجہ یہ ہوتا کہ آج تم بڑی دلیری سے کھڑے ہو جاتے اور کہتے میرے سب دوست سچ بولتے ہیں کیونکہ جب تمہارے کسی دوست نے جھوٹ بولا تھا اُس وقت سے وہ تمہارا دوست نہیں رہا تھا۔اگر تم ایسا کرتے تو تم خود بھی اور تمہارا وہ دوست بھی سچ بولنے لگ جاتا۔اگر تمہاری دوستی کی اُس کے نزدیک کوئی قیمت ہوتی تو وہ کہتا میں اس کا دوست رہنا چاہتا ہوں اس لئے میں آئندہ ہمیشہ سچ بولوں گا اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ تم بھی سچ بولنے لگ جاتے کیونکہ جب تم اپنے دوست سے سچ بلواتے تو پھر وہ دوست بھی تمہیں مجبور کرتا کہ تم سچ بولو اور اس طرح تمہیں وہ قیمت مل جاتی جس کا ہیرے جواہرات بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔بہر حال اگر تم نے پہلے اس طریق پر عمل نہیں کیا تو اب اس پر عمل کرنا شروع کر دو۔یہ کہنا فضول ہوگا کہ تم جھوٹ نہ بولو کیونکہ اگر میں ایسا کہوں تو تمہارے لئے آگے قدم اُٹھا نا مشکل ہو جائے گا۔میں کہتا ہوں جھوٹ بولنے والا تمہارا دوست نہ ہو اس طرح تم خود سچ بولنے لگ جاؤ گے۔تم اگر ایک دوست کو یہ کہو گے کہ اگر تم نے جھوٹ بولا تو میری تمہاری دوستی ٹوٹ جائے گی تو لازماً تمہارا دوست بھی یہ فیصلہ کر لے گا کہ اگر تم نے جھوٹ بولا تو اُس کی دوستی بھی ٹوٹ جائے گی اور جب بھی تم جھوٹ بولو گے تو وہ کہے گا میاں ! تم کیا کر رہے ہو؟ غرض سچ ایک قیمتی چیز ہے اور پھر کوئی مشکل بھی نہیں آسان ترین ہے جو کام ہاتھ نے کیا ہے اس کے متعلق یہ کہ دینا کہ ہاتھ سے یہ کام کیا ہے اس میں بوجھ کیا ہے۔آنکھ نے جو کچھ دیکھا اُس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ آنکھ نے فلاں چیز دیکھی ہے اس میں کونسی مشکل ہے۔کانوں نے ایک بات سنی ہے۔اب اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ کانوں نے فلاں بات سنی ہے اور اس کو ڈ ہرا دینا کون سی مشکل بات ہے۔یہاں کوئی فقرہ نہیں بنانا صرف ایک بات کو دہرا دینا ہے مثلاً عربی زبان ہے آپ لوگ اسے بڑی مشکل سے سیکھ سکتے ہیں لیکن ایک دو سال کے بچے کو بھی کہو ذَهَبتُ تو وہ اِسے دُہرا دے گا۔گویا جو فقرہ بنانا تم ساتویں، آٹھویں جماعت میں سیکھو گے وہ تم ایک سال کے بچہ سے بھی بن سکتے ہو۔تم کہو گے ذَهَبْتُ تو وہ فورا ڈ ہرا دے گا۔اسی طرح بی نقل کرنے کو کہتے ہیں یعنی جب تم سچ