انوارالعلوم (جلد 22) — Page 221
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۲۱ سیر روحانی (۵) پر عمل کرنے کے لئے وہ لوگ تیار نہیں ہوتے۔میں آج کے مضمون کے ذریعہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ہے وہ اسلامی حکومت جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں قائم کی اور یہ ہے وہ نظام جس کے متعلق قرآن کریم ہماری راہنمائی فرماتا ہے۔اسلام نے نہریں بھی بنائی ہیں، قلعے بھی بنائے ہیں ، مساجد بھی بنائی ہیں ، مینار بھی بنائے ہیں ، باغات بھی بنائے ہیں ، بازار بھی بنائے ہیں۔دیوانِ عام بھی بنائے ہیں اور دیوانِ خاص بھی بنائے ہیں مگر ان کے طریق اور رکھے ہیں۔آج میں انہی میں سے ایک چیز کو اس موقع پر بیان کرنا چاہتا ہوں۔دیوان عام کے قیام کی اغراض میں نے بتایا تھا کہ میں نے اپنے سفر میں دیوانِ عام بھی دیکھے جن میں بادشاہ اپنا دربار لگا یا کرتے تھے اور عوام الناس آتے اور اپنی شکایات وغیرہ پیش کرتے۔میں نے سوچا کہ یہ دیوانِ عام کیوں بنایا گیا تھا اور اس کی اغراض اور مقاصد کیا تھیں ؟ جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ :۔دیوانِ عام کے قیام کی پہلی غرض یہ ہوا کرتی تھی کہ اس دیوان میں بادشاہ کے خاص قوانین کا اعلان کیا جائے جب بادشاہوں نے اپنی رعایا کے سامنے بڑے بڑے اعلان کرنے ہوتے تھے تو ہمیشہ دیوانِ عام میں ہی کیا کرتے تھے پس دیوانِ عام کی پہلی غرض بادشاہ کے خاص قوانین کا اعلان کرنا ہوتی تھی۔۔اس کی دوسری غرض یہ ہو ا کرتی تھی کہ بادشاہ لوگوں کے سامنے آئے اور انہیں اپنا دیدار کرنے کا موقع دے اور ان کے متعلق انعام واکرام کا اعلان کرے۔۳- دیوانِ عام کی تیسری غرض یہ ہو ا کرتی تھی کہ عوام کو فریاد پیش کرنے کا موقع دیا جائے اور ان کے مظالم کا انسداد کیا جائے۔- دیوان عام کی چوتھی فرض یہ ہوا کرتی تھی کہ عوام کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا موقع دیا جائے اور بادشاہ ان کی ضرورتیں پوری کرے۔طریق یہ ہوتا تھا کہ بادشاہ دربار عام میں بیٹھتا تھا اور وزیر اعظم اُس کے اعلان سناتا تھا۔