انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 191

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۹۱ دیکھو! یہ احراری جھوٹے ہیں پہلے انہوں نے کہا میمورنڈم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے پیش کیا تھا اور اس لئے علیحدہ میمورنڈم پیش کیا گیا کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میمورنڈم شیخ بشیر احمد صاحب نے پیش کیا اور سر تیجا سنگھ کے اس سوال کے جواب میں کہ احمدیوں کا مؤقف کیا ہے، شیخ بشیر احمد صاحب نے کہا ہم شروع سے آخر تک مسلمان ہیں اور اپنے آپ کو اسلام کا ایک حصہ سمجھتے ہیں مگر احرار جھوٹ بول کر کہتے ہیں کہ ہم نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے یہ کہا کہ ہم مسلمان نہیں ہم مسلمانوں سے الگ ہیں کسی شاعر کا شعر ہے ہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا یہ لوگ کتنا بھی جھوٹ بولیں انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا لیکن بدنام ہم ہیں ہم کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کا ایک حصہ ہیں لیکن وہ کہتے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ ہم مسلمان نہیں ” ہے“ کو ”نہیں“ کہہ دینا کیا چھوٹی سی بات ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ احمدیوں کا الگ میمورنڈم پیش کرنا احرار کی اس شرارت کو ختم کرنے کے لئے تھا کہ احمدی مسلمان نہیں کیونکہ اگر اس کا جواب احمدیہ میمورنڈم میں دوسرے مسلمانوں کی حمایت کر کے نہ دیا جاتا تو گورداسپور میں مسلمانوں کی اکثریت کو ہندو اور سکھ اعداد و شمار سے غلط ثابت کر سکتے تھے۔یادر ہے کہ بٹالہ تحصیل میں مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب تھی اور احمدی ووٹ پچپن ہزار ووٹ میں سے پانچ ہزار سے اوپر تھا اور تحصیل گورداسپور ، شکر گڑھ اور پٹھان کوٹ میں دو ہزار سے زائد تھا پس ووٹوں کے لحاظ سے احمدیوں کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر بنتی ہے مگر چونکہ احمدیوں میں تعلیم زیادہ تھی اس لئے تعلیم کی وجہ سے ان کے ووٹ ساٹھ ہزار میں سے اتنے بن گئے۔صرف قادیان میں احمدی بارہ ہزار سے زائد تھے اور اردگرد کے پانچ چھ دیہات میں مزید پانچ ہزار تھے گویا صرف قادیان اور اس کے اردگرد کے دو دو میل کہ حلقہ میں احمدی سترہ ہزار تھے۔٪ ۱۴۵ سارے ضلع کی آبادی