انوارالعلوم (جلد 22) — Page 181
انوار العلوم جلد ۲۲ ΙΔΙ نہایت بہادری کے ساتھ دشمن کے خلاف اپنے فرض کو ادا کیا۔تم پر زمین سے بھی دشمن حملہ کر رہا تھا اور آسمان سے بھی لیکن دوسال کے عرصہ میں تم نے ایک انچ زمین بھی اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دی۔تمہارا شریفانہ رویہ انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اور تمہارا نظم اعلیٰ درجہ کا تھا۔چونکہ اب تمہارا کام ختم ہو چکا ہے اور بٹالین کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو چلی جائے میں چاہتا ہوں کہ اس موقع پر تم میں سے ہر ایک کا اُس خدمت کی وجہ سے جو اُس نے پاکستان کی کی۔شکر یہ ادا کروں۔خدا حافظ۔“ یہ وہ اعلان ہے جو پاکستانی افواج کے کمانڈر انچیف نے کیا اور احراری اب تک دُہرا رہے ہیں کہ احمدیوں نے کشمیر کی جنگِ آزادی میں ملک سے غداری کی۔اور وہ سردار آفتاب احمد جس نے حکومت کے حکم کے ماتحت اپنے بیان کی تردید کی تھی اب پھر وہی اعتراض کرتے ہیں۔حکومت ہماری خدمات سے کس طرح متاثر تھی اس کا اندازہ ایک اور اعلیٰ افسر کے بیان سے بھی لگ سکتا ہے وہ کہتا ہے کہ فرقان فورس پر غداری کا الزام لگایا گیا ہے لیکن جہاں تک میرا علم ہے میں یہ کہہ سکتا ہیں کہ فرقان فورس نے نہایت ہی شاندار خدمات سرا انجام دی ہیں اور ان خدمات کے عوض میں ہم سے کسی چیز کی بھی خواہش نہیں کی۔پھر اس سے بھی ایک اعلیٰ افسر لکھتا ہے کہ کوئی شخص کمانڈر انچیف کے خلاف بات نہیں کر سکتا۔وہ اس بارہ میں زیادہ تجربہ کار ہیں لیکن میں ذاتی علم کی بناء پر بھی کہہ سکتا ہوں کہ سوائے تعریف کے میں نے فرقان فورس کے خلاف کچھ نہیں سُنا۔مجھے افسوس ہے کہ سردار آفتاب احمد نے جو بیان شائع کیا ہے وہ نہایت ہی غیر شریفانہ ہے۔یہ تو اعلیٰ افسروں اور اُس ڈیپارٹمنٹ کی رائے ہے جس کے ماتحت فرقان فورس کام کر رہی تھی۔پھر کمانڈر انچیف کا بیان ہے جس کو صرف غیر جانبدار اخباروں نے شائع کیا ہے ہمارے دشمنوں نے شائع نہیں کیا۔اب ظاہر ہے کہ کشمیر کے ساتھ پاکستان کے عوام کو