انوارالعلوم (جلد 22) — Page 114
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۱۴ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر ہو۔یہ آپ کے اخلاق فاضلہ کا ہی نتیجہ تھا کہ لوگ آپ کے پاس آتے اور مسلمان ہوتے جاتے۔جب نور قلب پیدا ہو جائے ، جب وسعت قلب نصیب ہو جائے ، جب روحانیت دکھائی جائے تو کیا کسی کی عقل ماری گئی ہے کہ وہ جہنم میں جائے۔تنور میں جان بوجھ کر کوئی نہیں پڑتا۔جتنے لوگ جہنم میں جائیں گے غلط فہمی کی بناء پر ہی جائیں گے۔پس تم ان کے پاس جاؤ اور انہیں سمجھاؤ۔جب ان کے اندر نور ایمان پیدا ہو جائے گا ، جب ان کی محبت تیز ہو جائے گی تو جو لوگ آج تمہیں مارنے کا فتویٰ دیتے ہیں اگر کوئی تمہیں پتھر مارے گا تو وہ خود اپنے سینہ پر لیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک شخص نے بظاہر اسلام قبول کر لیا اور وہ جنگ حنین میں شریک ہوا لیکن اُس کی نیت یہ تھی کہ جس وقت لشکر آپس میں ملیں گے تو میں موقع پا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دوں گا۔جب لڑائی تیز ہوئی تو اس شخص نے تلوار کھینچ لی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت اکیلے تھے صرف حضرت عباس ساتھ تھے۔اس شخص نے موقع غنیمت جانا اور آگے بڑھ کر وار کرنا چاہا۔خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو الہاماً بتا دیا کہ اس شخص کے اندر کپٹال ہے۔وہ شخص خود ذکر کرتا ہے کہ میں آپ کی طرف بڑھتا گیا اور میں خیال کرتا تھا کہ اب میری تلوار آپ کی گردن اڑا دے گی لیکن جب میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا اور سینہ پر رکھ کر فرمایا۔اے خدا! تو اس کو شیطانی خیالات سے نجات دے اور اس کے بغض کو دور کر دے۔وہ شخص کہتا ہے مجھے یکدم یوں محسوس ہوا کہ آپ سے زیادہ پیاری چیز اور کوئی نہیں۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگے بڑھو اورلڑو۔میں نے تلوار سونت لی اور خدا کی قسم ! اگر اُس وقت میرا باپ بھی زندہ ہوتا اور وہ میرے سامنے آ جاتا تو میں اپنی تلوار اس کے سینہ میں بھونک دینے سے بھی دریغ نہ کرتا۔یہ محبت ہے جس نے اُس کی دشمنی کو دور کر دیا۔پس تم تبلیغ کرو اور نرمی سے سمجھاؤ اور دُعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کے اندر بھی محبت پیدا کرے۔ان کی دنیا داری بغض اور کینہ و فساد کی آگ کو مٹا دے۔انہیں ایمان