انوارالعلوم (جلد 22) — Page 86
انوار العلوم جلد ۲۲ ۸۶ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر کرنے والوں کو اصل حقیقت سے واقف کرو جب تم انہیں اصل حقیقت سے واقف کر دو گے تو انہیں پتہ لگ جائے گا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن نہیں بلکہ آپ کے سچے عاشق ہیں اور وہی لوگ جو تمہیں مارنے پر آمادہ ہیں تمہاری خاطر مرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔آخر مکہ والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی مخالفت کی تھی ؟ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اس لئے کرتے تھے کہ وہ سمجھتے تھے یہ شخص دین حقہ یعنی ان کے آباؤ اجداد کے دین کی مخالفت کرتا ہے اور اسے بگاڑتا ہے لیکن جب انہیں پتہ لگ گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی دینِ حقہ لائے ہیں تو وہی مکہ والے جو آپ کو مارنے کے درپے تھے آپ کی خاطر قربانیاں کرنے اور اپنی جانیں دینے کے لئے تیار ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشد ترین دشمن عتبہ، شیبہ، ولید ، عاص اور ابو جہل تھے اور ان کے ساتھ چمٹا ہوا ابوسفیان تھا یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء سے مخالفت کی اور ایسی شدید مخالفت کی جس کی شان دنیا کے پردہ پر نظر نہیں آتی۔ابو جہل کی مخالفت کا یہ حال تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک چٹان پر بیٹھے کسی مسئلہ کے متعلق سوچ رہے تھے صبح کا وقت تھا کہ ابو جہل پاس سے گزرا۔اُس نے جب آپ کو چٹان پر اس طرح خاموش بیٹھے دیکھا تو شیطان نے اُس کے دل میں شرارت پیدا کی اُس نے آپ کو گالیاں دینی شروع کر دیں ، بُرا بھلا کہا اور پھر آپ کو ایک تھپڑ مارا اور کہا تو باز نہیں آتا اپنی باتوں سے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے کوئی بات سوچ رہے تھے جب ابو جہل نے آپ کو تھپڑ مارا تو آپ نے صرف اتنا کہا کہ میں نے آپ لوگوں کا کیا بگاڑا ہے کہ میرے ساتھ اتنی دشمنی کی جاتی ہے، میں نے تو آپ لوگوں کو صرف خدا تعالیٰ کا پیغام سُنایا ہے۔آپ نے یہ فرمایا اور پھر چٹان پر بیٹھ گئے۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، آپ نہایت دلیر بہادر اور مضبوط پہلوان تھے آپ ہر وقت شکار میں مشغول رہتے تھے اور دین کے متعلق سوچنے کا کبھی آپ کو خیال بھی نہیں آتا تھا۔جب ابو جہل نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تو حمزہ کی ایک پرانی لونڈی اس واقعہ کو دیکھ رہی تھی۔پرانی لونڈیاں اور خادم بھی گھر کے