انوارالعلوم (جلد 22) — Page 55
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۵ مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع۔۔۔میں بعض اہم ہدایات۔بهر حال إِلى وَاللہ کہنے کی اس طرح مشق کرائیں کہ اُس کی آواز سے میدان گونج اُٹھے ابھی اپنی اپنی ذات میں جتنی بلند ہو جاتی ہے اتنی ہی ہوتی ہے اُس کے پیچھے مشق نہیں ہوتی۔میں نے بتایا ہے کہ ائی کا لفظ خود بخود اپنی ذات میں طاقت رکھتا ہے اور مشق سے یہ طاقت دوگنی گنی بڑھائی جاسکتی ہے۔صحیح طریق یہ ہے کہ جب یہ الفاظ کو ئی شخص کہنا چاہئے تو پہلے اپنے سانس کو کھینچ لے۔نکلے ہوئے سانس پر جب کوئی بلند آواز سے انى وَاللَّـهِ کہنا چاہے تو وہ نہیں کہ سکتا۔لیکن جب سانس اندر کھینچا ہو تو ایک تو اس کے اعصاب آواز کو بلند کرتے ہیں دوسرے جو منہ سے ہوا نکلتی ہے وہ اُسے اور اونچا کر دیتی ہے۔میرا گلا بیٹھا ہوا ہے مگر میں نے تجربہ کے بعد اس راز کو معلوم کر لیا ہے اور تقریر کے وقت اپنے سانس کو کچھ دیر کے لئے روک لیتا ہوں جس سے آواز بلند ہو جاتی ہے۔یوں میں کہیں سے گزر رہا ہوں اور مجھے کوئی اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہے تو بعض دفعہ پاس کا آدمی بھی وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ کی آواز نہیں سن سکتا۔گلے میں ہی آواز رہ جاتی ہے آجکل کئی عزیز اور بچے میرے پاس آتے ہیں اور اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتے ہیں تو تھوڑی دیر کے بعد وہ دریافت کرتے ہیں کہ آپ خفا تو نہیں ہم نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہا تھا مگر آپ نے جواب نہیں دیا ؟ میں کہا کرتا ہوں کہ ہم نے تو وَ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ کہا تھا مگر تم نے سنا نہیں۔اس گر کے ماتحت میں نے اس وقت تقریر کر لی ہے۔بیشک بیمار گلے کی صورت میں یہ چیز بعد میں گلے کے لئے مضر ثابت ہو جاتی ہے کیونکہ جو ماؤف گلا ہوا سے اس طرح تکلیف پہنچتی ہے لیکن ضرورت کے وقت گزارہ ہو جاتا ہے۔پس اپنی کہنے سے پہلے اپنے سانس کو تھوڑی دیر کے لئے روک لیا کرو۔جب ایسا کرو گے تو ائی کہنے کیسا تھ صرف اپنی کی آواز ہی نہیں نکلے گی بلکہ ساتھ ہوا بھی نکلے گی اور وہ اُس آواز کو اور بھی بلند کر دیگی۔پس آئندہ کے لئے اس طرح مشق کرو کہ اِنی کہنے والے خواہ چندا فراد ہی ہوں ان کی آواز فضا میں ایک گونج پیدا کر دے۔اس کے علاوہ تین چھوٹی چھوٹی اور بھی باتیں ہیں۔خدام الاحمدیہ کی تنظیم جب جاری کی گئی تھی تو میں نے تیر نے اور سواری کی مشق کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی تھی۔کل ہی شیخو پورہ کے دوستوں نے ایک واقعہ سنایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر خدام